المعجم الكبير للطبراني
باب الواو— حرف واؤ سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
ما أسند وحشي باب: سیدنا وحشی رضی اللہ عنہ کی مرویات
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عِيسَى بْنِ الْمُنْذِرِ الْحِمْصِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ الصُّورِيُّ، ثنا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ وَحْشِيِّ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لِي: «وَحْشِيٌّ» فَقُلْتُ: نَعَمْ قَالَ: «أَقَتَلْتَ حَمْزَةَ؟» ، قُلْتُ: نَعَمْ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَكْرَمَهُ بِيَدِي وَلَمْ يُهِنِّي بِيَدَيْهِ، فَقَالَتْ لَهُ قُرَيْشٌ: أَنْحِبْهُ وَهُوَ قَاتَلُ حَمْزَةَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، فَاسْتَغْفِرْ لِي، فَتَفَلَ فِي الْأَرْضِ ثَلَاثَةً وَدَفَعَ فِي صَدْرِي ثَلَاثَةً، وَقَالَ: «يَا وَحْشِيُّ، اخْرُجْ فَقَاتَلْ فِي سَبِيلِ اللهِ كَمَا قَاتَلْتَ لِتَصُدَّ عَنْ سَبِيلِ اللهِ»سیدنا وحشی بن حرب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”وحشی؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم نے حمزہ کو قتل کیا تھا؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں، اور تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے انہیں میرے ہاتھ سے شہادت کی عزت بخشی، نہ کہ مجھے ان کے ہاتھوں سے ذلیل کیا۔ اس پر قریش نے آپ ﷺ سے کہا: اسے قتل کر دیجیے، یہ حمزہ کا قاتل ہے۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے لیے مغفرت کی دعا کیجیے۔ تو آپ ﷺ نے زمین پر تین بار تھوکا اور تین بار میرے سینے پر ہاتھ مارا، اور فرمایا: ”اے وحشی! جاؤ اور اللہ کی راہ میں اسی طرح جنگ کرو جیسے تم نے اللہ کی راہ سے روکنے کے لیے جنگ کی تھی۔“