المعجم الكبير للطبراني
باب الواو— حرف واؤ سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
أبو عمر، عن أبي جحيفة باب: ابوعمر کی سیدنا ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت
حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الدِّمَشْقِيُّ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ح وَحَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ح وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حَكِيمٍ الْأَوْدِيُّ قَالُوا: ثنا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي عُمَرَ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ قَالَ: ذَكَرْتُ الْجُدُودَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ بَعْضُهُمْ: جَدِّي فِي الْخَيْلِ، وَقَالَ: بَعْضُهُمْ جَدِّي فِي الْإِبِلِ وَقَالَ بَعْضُهُمْ: جَدِّي فِي الْغَنَمِ، وَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَصَلَّى بِهِمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، قَالَ: «سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّماوَاتِ وَمِلْءَ الْأَرْضِ، وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا رَادَّ لِمَا قَضَيْتَ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ»سیدنا ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم ﷺ کے پاس نصیب (بخت) کا ذکر کیا تو کسی نے کہا: میرا نصیب گھوڑوں میں ہے، اور کسی نے کہا: میرا نصیب اونٹوں میں ہے، اور کسی نے کہا: میرا نصیب بکریوں میں ہے۔ اسی دوران نماز کا وقت ہو گیا تو نبی کریم ﷺ نے انہیں نماز پڑھائی۔ جب آپ ﷺ نے رکوع سے سر اٹھایا تو فرمایا: ”اللہ نے اس کی سن لی جس نے اس کی حمد کی، اے ہمارے رب! تیرے ہی لیے حمد ہے، آسمانوں اور زمین کے برابر، اور اس کے بعد جو کچھ تو چاہے اس کے برابر۔ جو تو عطا کرے اسے کوئی روکنے والا نہیں، اور جو تو روک لے اسے کوئی دینے والا نہیں، اور جو تو فیصلہ کر دے اسے کوئی ٹالنے والا نہیں، اور نصیب والے کو اس کا نصیب تیرے مقابلے میں کچھ فائدہ نہیں دیتا۔“