المعجم الكبير للطبراني
باب الواو— حرف واؤ سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
قيس بن الربيع، عن عون بن أبي جحيفة باب: قیس بن ربیع کی عون بن ابی جحیفہ سے روایات
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ، ثنا أَبُو بِلَالٍ الْأَشْعَرِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ قَالَ: ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ قَالَا: ثنا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: رَأَيْتُ بِلَالًا خَرَجَ بِالْهَاجِرَةِ وَمَعَهُ عَنَزَةٌ فَرَكَزَهَا، ثُمَّ قَامَ يُؤَذِّنُ فَجَعَلَ أُصْبُعَيْهِ فِي أُذُنَيْهِ وَجَعَلَ يَقُولُ بِرَأْسِهِ هَكَذَا وهَكَذَا يَمِينًا وَشِمَالًا حَتَّى فَرَغَ مِنْ أَذَانِهِ، ثُمَّ دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْرَجَ فَضْلَةً مِنَ الْمَاءِ، فَمِنْ بَيْنِ آخِذٍ وَنَاضِحٍ، ثُمَّ خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ حُلَّةٌ حَمْرَاءُ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى بَيَاضِ سَاقَيْهِ مِنْ تَحْتِهَا فَصَلَّى إِلَى الْعَنَزَةِ وَالظَّعْنُ يَمُرُّونَ بَيْنَ يَدَيْهِ وَاللَّفْظُ لِحَدِيثِ أَبِي بِلَالٍسیدنا ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ دوپہر کی گرمی میں نیزہ لے کر نکلے اور اسے گاڑ دیا، پھر اذان دینے کھڑے ہوئے، اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں ڈالیں اور اپنا سر یوں یوں دائیں بائیں پھیرنے لگے یہاں تک کہ اذان سے فارغ ہوئے۔ پھر رسول اللہ ﷺ کے پاس گئے اور وضو کا بچا ہوا پانی نکالا تو لوگ اسے لینے اور اس سے تر ہونے میں لگ گئے۔ پھر رسول اللہ ﷺ نکلے، آپ ﷺ نے سرخ جوڑا پہن رکھا تھا، گویا میں اس کے نیچے سے آپ ﷺ کی پنڈلیوں کی سفیدی دیکھ رہا ہوں، تو آپ ﷺ نے نیزے کی طرف منہ کر کے نماز پڑھی جبکہ سواریوں پر عورتیں آپ ﷺ کے سامنے سے گزر رہی تھیں۔
یہ الفاظ ابوبلال کی روایت کے ہیں۔