❮
❯
حدیث نمبر: 18374
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ، ثنا حَكِيمُ بْنُ خِذَامٍ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ وَاثِلَةَ قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ أَكْشَفُ أَحْوَلُ أَوْقَصُ أَحْنَفُ أَقْحَمُ أَعْسَرُ أَرْسَجُ أَفْحَجُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَخْبِرْنِي بِمَا فَرَضَ اللهُ عَلَيَّ، فَلَمَّا أَخْبَرَهُ قَالَ: إِنِّي أُعَاهِدُ اللهَ أَنْ لَا أَزِيدَ عَلَى فَرِيضَتِهِ، قَالَ: «لِمَ» قَالَ: لِأَنَّهُ خَلَقَنِي أَكْشَفَ أَحْوَلَ أَقْحَمَ أَعْسَرَ أَرْسَجَ أَفْحَجَ ثُمَّ أَدْبَرَ فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، أَيْنَ الْعَاتِبُ عَلَى رَبِّهِ؟ عَاتَبَ رَبًّا كَرِيمًا فَأَعْتَبَهُ، قَالَ: قُلْ لَهُ: أَلَا تَرْضَى أَنْ تُبْعَثَ فِي صُورَةِ جِبْرِيلَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ فَبَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الرَّجُلِ فَقَالَ: «إِنَّكَ عَاتَبْتَ رَبًّا كَرِيمًا فَأَعْتَبَكَ، أَفَلَا تَرْضَى أَنْ يَبْعَثَكَ اللهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى صُورَةِ جِبْرِيلَ؟» قَالَ: بَلَى يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: فَإِنِّي أُعَاهِدُ اللهَ لَا يَقْوَى جَسَدِي عَلَى شَيْءٍ يَرْضَاهُ اللهُ إِلَّا حَمَلْتَهُ
ترجمہ

سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کے پاس ایک آدمی آیا جس کی پیشانی کے بال الٹے اگے ہوئے تھے، بھینگا، چھوٹی گردن والا، ٹیڑھے پاؤں والا، بدہیئت، کھبا (بائیں ہاتھ سے کام کرنے والا)، پتلے سرین والا اور ٹانگیں پھیلا کر چلنے والا تھا۔ اس نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے بتائیے کہ اللہ نے مجھ پر کیا فرض کیا ہے؟ جب آپ ﷺ نے اسے بتا دیا تو اس نے کہا: میں اللہ سے عہد کرتا ہوں کہ اس کے فرائض پر کچھ زیادہ نہیں کروں گا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیوں؟“ اس نے کہا: کیونکہ اس نے مجھے الٹے بالوں والا، بھینگا، بدہیئت، کھبا، پتلے سرین والا اور ٹانگیں پھیلا کر چلنے والا پیدا کیا ہے۔ پھر وہ پیٹھ پھیر کر چلا گیا۔ اس پر جبریل علیہ السلام آپ ﷺ کے پاس آئے اور کہا: اے محمد! وہ اپنے رب پر اعتراض کرنے والا کہاں ہے؟ اس نے اپنے کریم رب پر اعتراض کیا تو اس نے اس کی بات مان لی۔ (جبریل نے) کہا: اس سے کہیے: کیا تجھے یہ پسند نہیں کہ تُو قیامت کے دن جبریل کی صورت میں اٹھایا جائے؟ تو نبی کریم ﷺ نے اس آدمی کی طرف پیغام بھیجا اور فرمایا: ”تُو نے اپنے کریم رب پر اعتراض کیا اور اس نے تیری بات مان لی، تو کیا تُو اس پر راضی نہیں کہ اللہ تجھے قیامت کے دن جبریل کی صورت میں اٹھائے؟“ اس نے کہا: کیوں نہیں، یا رسول اللہ۔ (پھر) کہا: میں اللہ سے عہد کرتا ہوں کہ میرا جسم جس چیز پر بھی اللہ راضی ہوتا ہو اسے کرنے کی طاقت رکھے تو میں وہ ضرور کروں گا۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الواو / حدیث: 18374
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 63، حدیث 154