المعجم الكبير للطبراني
باب الواو— حرف واؤ سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
ما أسند واثلة مكحول الشامي، عن واثلة باب: سیدنا واثلہ رضی اللہ عنہ کی مرویات — مکحول شامی کی ان سے روایات
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ مَكْحُولٍ قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا، وَأَبُو الْأَزْهَرِ، عَلَى وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ فَقُلْنَا لَهُ، يَا أَبَا الْأَسْقَعِ، حَدِّثْنَا بِحَدِيثٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ فِيهِ وَهْمٌ، وَلَا تَزِيُّدٌ، وَلَا نِسْيَانُ قَالَ: " هَلْ قَرَأَ أَحَدُكُمُ اللَّيْلَةَ مِنَ الْقُرْآنِ شَيْئًا، فَقُلْنَا: نَعَمْ، وَمَا نَحْنُ لَهُ بِالْحَافِظِينَ جِدًّا، إِنَّا لَنَزِيدُ الْوَاوَ وَالْأَلِفَ ونُنْقِصُ قَالَ: فَهَذَا الْقُرْآنُ مَكْتُوبٌ بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ لَا تَأْلُونَ حِفْظَهُ، وَأَنْتُمْ تَزْعُمُونَ أَنَّكُمْ تَزِيدُونَ وتَنْقُصُونَ، فَكَيْفَ بِأَحَادِيثَ سَمِعْنَاهَا مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَسَى أَنْ لَا يَكُونَ سَمِعْنَاهَا مِنْهُ إِلَّا مَرَّةً وَاحِدَةً حَسْبُكُمْ إِذَا مَا حَدَّثْنَاكُمْ بِالْحَدِيثِ عَلَى الْمَعْنَى "مکحول رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں اور ابوازہر سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور ہم نے ان سے کہا: اے ابوالاسقع! ہمیں کوئی ایسی حدیث سنائیے جو آپ نے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہو، جس میں نہ کوئی وہم ہو، نہ کمی بیشی، نہ بھول۔ انہوں نے کہا: کیا تم میں سے کسی نے آج رات قرآن میں سے کچھ پڑھا ہے؟ ہم نے کہا: جی ہاں، لیکن ہم اسے پوری طرح یاد نہیں رکھ پاتے، ہم کبھی واؤ اور الف بڑھا دیتے ہیں اور کبھی کم کر دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا: یہ تو قرآن ہے، جو تمہارے درمیان لکھا ہوا موجود ہے، اور تم اس کی حفاظت میں کوئی کمی نہیں کرتے، پھر بھی تمہارا خیال ہے کہ تم اس میں کمی بیشی کر دیتے ہو، تو پھر ان احادیث کا کیا حال ہو گا جو ہم نے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہیں، شاید ہم نے انہیں صرف ایک بار سنا ہو؟ تمہارے لیے یہی کافی ہے کہ ہم تمہیں حدیث اس کے معنی کے مطابق بیان کریں۔