حدیث نمبر: 18319
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو حُذَيْفَةَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِي شَعْرٌ فَقَالَ: «ذُبَابُ» فَذَهَبْتُ فَأَخَذْتُ مِنْ شَعْرِي، ثُمَّ جِئْتُهُ فَقَالَ لِي: «لِمَ أَخَذْتَ مِنْ شَعْرِكَ؟» ، قُلْتُ: سَمِعْتُكَ تَقُولُ: ذُبَابُ فَظَنَنْتُكَ تُعْيبُنِي، فَقَالَ: «مَا عَيَّبْتُكَ وَهَكَذَا أَحْسَنُ»
ترجمہ

سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور میرے بال (لمبے) تھے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”مکھی کی طرح!“ میں گیا اور اپنے بال کچھ کٹوا لیے، پھر آپ ﷺ کے پاس آیا تو آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”تم نے اپنے بال کیوں کٹوائے؟“ میں نے عرض کیا: میں نے آپ ﷺ کو ”مکھی“ فرماتے سنا تو میں نے سمجھا کہ آپ مجھ پر اعتراض فرما رہے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے تم پر اعتراض نہیں کیا، اور یہی بہتر ہے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الواو / حدیث: 18319
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 40، حدیث 99