المعجم الكبير للطبراني
باب الواو— حرف واؤ سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
كليب بن شهاب أبو عاصم الجرمي، عن وائل بن حجر باب: کلیب بن شہاب ابوعاصم جرمی کی سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ قَالَا: ثنا زَائِدَةُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ قَالَ: قُلْتُ: «لَأَنْظُرَنَّ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ يُصَلِّي، فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ، فَكَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى حَاذَتَا بِأُذُنَيْهِ، ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى ظَهْرِ كَفَّهِ الْيُسْرَى بَيْنَ الرُّسْغِ وَالسَّاعِدِ، ثُمَّ لَمَّا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ رَفَعَ يَدَيْهِ مِثْلَهَا، وَوَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَرَفَعَ يَدَيْهِ مِثْلَهَا، ثُمَّ سَجَدَ فَجَعَلَ كَفَّيْهِ حِذَاءَ أُذُنَيْهِ، ثُمَّ قَعَدَ وَافْتَرَشَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى وَوَضَعَ كَفَّهُ الْيُسْرَى، وَجَعَلَ حَدَّ مِرْفَقِهِ الْأَيْمَنِ عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى، ثُمَّ قَبَضَ ثِنْتَيْنِ مِنْ أَصَابِعِهِ، وَحَلَّقَ حَلْقَةً، ثُمَّ رَفَعَ أُصْبُعَهُ، وَرَأَيْتُهُ يُحَرِّكُهَا يَدْعُو بِهَا، ثُمَّ جِئْتُ بَعْدَ ذَلِكَ فِي زَمَانٍ فِيهِ بُرْدٌ فَرَأَيْتُ النَّاسَ عَلَيْهِمْ جُلُّ الثِّيَابِ يُحَرِّكُ أَيْدِيهِمْ مِنْ تَحْتِ الثِّيَابِ» وَاللَّفْظُ لِحَدِيثِ مُعَاوِيَةَ بْنِ عَمْرٍوسیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے کہا: میں ضرور رسول اللہ ﷺ کو دیکھوں گا کہ آپ ﷺ کیسے نماز پڑھتے ہیں، تو میں نے آپ ﷺ کو دیکھا، آپ ﷺ نے تکبیر کہی اور اپنے ہاتھ کانوں کے برابر تک اٹھائے، پھر اپنا دایاں ہاتھ اپنے بائیں ہاتھ کی پشت پر، کلائی اور بازو کے درمیان رکھا۔ پھر جب رکوع کا ارادہ کیا تو اسی طرح ہاتھ اٹھائے، اور اپنے ہاتھ گھٹنوں پر رکھے، پھر سر اٹھایا تو اسی طرح ہاتھ اٹھائے، پھر سجدہ کیا تو اپنی ہتھیلیاں کانوں کے برابر رکھیں، پھر بیٹھے تو اپنا بایاں پاؤں بچھایا اور اپنی بائیں ہتھیلی رکھی، اور اپنی دائیں کہنی کا کنارہ اپنی دائیں ران پر رکھا، پھر اپنی دو انگلیاں بند کیں اور ایک حلقہ بنایا، پھر اپنی انگلی اٹھائی، اور میں نے دیکھا کہ آپ ﷺ اسے حرکت دے کر دعا کر رہے تھے۔ پھر اس کے بعد میں سردی کے موسم میں آیا تو دیکھا کہ لوگوں نے موٹے کپڑے پہن رکھے تھے اور اپنے کپڑوں کے نیچے سے اپنے ہاتھ حرکت دے رہے تھے۔