المعجم الكبير للطبراني
باب الميم— حرف میم سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عمرو بن وهب الثقفي , عن المغيرة باب: عمرو بن وہب ثقفی کی سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَبُو عُبَيْدَةَ الْعَسْكَرِيُّ، ثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، قَالَا , ثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ سَوَّارٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ وَهْبٍ الثَّقَفِيِّ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ , فَلَمَّا كَانَ السَّحَرُ ضَرَبْتُ رَاحِلَتِي فَأَقْبَلْتُ مَعَهُ فَانْطَلَقَ حَتَّى تَغَيَّبَ عَنِّي , ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ: «حَاجَتَكَ؟» , فَقُلْتُ: مَا لِي مِنْ حَاجَةٍ , قَالَ: «مَعَكَ مَاءٌ؟» قُلْتُ: نَعَمْ , فَتَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ ثُمَّ انْطَلَقَ حَتَّى أَدْرَكَ النَّاسَ وَهُمْ يُصَلُّونَ , وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ يَؤُمُّهُمْ , فَتَحَرَّكَ لِجِيئَةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَوْمَأَ بِيَدِهِ إِلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنِ اثْبُتْ , فَصَلَّيْنَا مَا أَدْرَكْنَا , وَقَضَيْنَا مَا فَاتَنَا "سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: ہم نبی کریم ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے، جب سحر کا وقت ہوا تو میں نے اپنی سواری کو ہانکا اور آپ ﷺ کے ساتھ آگے بڑھا۔ آپ ﷺ چلے گئے یہاں تک کہ مجھ سے اوجھل ہو گئے، پھر تشریف لائے اور فرمایا: ”تمہیں حاجت ہے؟“ میں نے عرض کیا: مجھے کوئی حاجت نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارے پاس پانی ہے؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں۔ چنانچہ آپ ﷺ نے وضو کیا اور اپنے موزوں پر مسح فرمایا، پھر چلے یہاں تک کہ لوگوں کے پاس پہنچے جو نماز پڑھ رہے تھے اور عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ انہیں نماز پڑھا رہے تھے۔ رسول اللہ ﷺ کی آمد پر (لوگوں میں) حرکت ہوئی تو آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے عبدالرحمٰن کی طرف اشارہ کیا کہ ڈٹے رہو (نماز جاری رکھو)۔ چنانچہ جو رکعت ہمیں مل گئی وہ ہم نے پڑھی، اور جو ہم سے رہ گئی تھی وہ ہم نے پوری کی۔