حدیث نمبر: 18108
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَمْرُو بْنُ حَمَّادِ بْنِ طَلْحَةَ الْقَنَّادُ، ثنا أَسْبَاطُ بْنُ نَصْرٍ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ بِشْرِ بْنِ قُحَيْفٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ: بَيْنَمَا أَنَا أَسِيرُ ذَاتَ لَيْلَةٍ إِذْ أَنَا بِنَعِيرِ، رَاكِبٍ مِنَ الرَّكْبِ، قَالَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ: قُلْتُ: مَنْ أَنْتَ؟ قَالَ: «أَنَا رَسُولُ اللهِ» ، فَحَبَسْتُ حَتَّى لَحِقَنِي، فَسَايَرْتُهُ ثُمَّ نَزَلَ فَتَبَرَّزَ، قَالَ: «عِنْدَكَ مَاءٌ؟» قُلْتُ: أَيَضُرُّكَ؟ قَالَ: «فَأَتَيْتُهُ بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ، فَمَا افْتَرَقْنَا حَتَّى صَلَّيْنَا صَلَاةَ الْفَجْرِ»
ترجمہ

سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک رات میں سفر کر رہا تھا کہ اچانک مجھے قافلے میں سے ایک سوار کی آواز سنائی دی۔ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے پوچھا: ”تم کون ہو؟“ انہوں نے فرمایا: ”میں اللہ کے رسول ہوں۔“ چنانچہ میں رکا یہاں تک کہ وہ مجھ تک پہنچ گئے، پھر میں ان کے ساتھ چلنے لگا۔ پھر آپ ﷺ اترے اور قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارے پاس پانی ہے؟“ میں نے عرض کیا: ”کیا یہ آپ کو تکلیف دے گا؟“ پھر میں آپ ﷺ کے پاس پانی لے آیا، آپ ﷺ نے وضو کیا اور اپنے موزوں پر مسح فرمایا، اور ہم جدا نہ ہوئے یہاں تک کہ ہم نے فجر کی نماز پڑھ لی۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الميم / حدیث: 18108
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 410، حدیث 984