المعجم الكبير للطبراني
باب الميم— حرف میم سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
الشعبي، عن عروة باب: شعبی کی عروہ سے روایات
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى بْنِ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، ثنا أَبِي، ثنا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، وَالشَّعْبِيِّ - قَالَ ابْنُ عَوْنٍ: لَا أَحْفَظُ حَدِيثَ هَذَا مِنْ حَدِيثِ هَذَا، فَكَانَ حَدِيثُ الشَّعْبِيِّ أَقْرَبَهُمَا إِسْنَادًا - حَدَّثَ الشَّعْبِيُّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، وَرَدَّ مُحَمَّدٌ الْحَدِيثَ إِلَى الْمُغِيرَةِ، - قَالَ ابْنُ عَوْنٍ: ذَكَرَ ذَاكَ الْمَسِيرَ - قَالَ: فَقَرَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ظَهْرِي بِعَصًا كَانَتْ مَعَهُ، فَعَدَلَ وَعَدَلْتُ حَتَّى بَلَغَنَا - لَا أَدْرِي أَيْنَ مِنَ الْأَرْضِ - فَأَنَاخَ فَنَزَلَ فَانْطَلَقَ حَتَّى تَوَارَى عَنِّي، ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ: «أَمَعَكَ مَاءٌ؟» وَمَعِي سَطِيحَةٌ لِي، فَأَفْرَغْتُ عَلَيْهِ فَغَسَلَ كَفَّيْهِ وَغَسَلَ وَجْهَهُ وَذَهَبَ يَغْسِلُ ذِرَاعَيْهِ وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ شَامِيَّةٌ ضَيِّقَةُ الْكُمَّيْنِ، فَأَخْرَجَ يَدَيْهِ مِنْ تَحْتِ الْبُدْنِ، فَغَسَلَ يَدَيْهِ وَغَسَلَ وَجْهَهُ، وَغَسَلَ ذِرَاعَيْهِ وَمَسَحَ - قَالَ ابْنُ عَوْنٍ: وَذَكَرَ مِنْ نَاصِيَتِهِ وَعِمَامَتِهِ شَيْئًا، لَا أَدْرِي أَصَبْتُهُ أَوْ لَا - وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ ثُمَّ قَالَ: «حَاجَتَكَ» قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا لِي حَاجَةٌ، فَانْطَلَقْنَا فَأَتَيْنَا النَّاسَ وَقَدْ أَمَّهُمُ ابْنُ عَوْفٍ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً، فَذَهَبْتُ لِأُوذِنَهُ فَمَنَعَنِي، فَصَلَّيْنَا مَا أَدْرَكْنَا، وَقَضَيْنَا مَا سُبِقْنَاسیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی کریم ﷺ نے اپنی لاٹھی سے میری پیٹھ پر ہلکی سی ضرب لگائی جو آپ ﷺ کے پاس تھی، تو آپ ﷺ ایک طرف مڑے اور میں بھی مڑ گیا، یہاں تک کہ ہم ایک جگہ پہنچے - مجھے یاد نہیں زمین کے کس حصے میں - تو آپ ﷺ نے سواری بٹھائی اور اترے، پھر چل کر مجھ سے اوجھل ہو گئے، پھر آئے تو فرمایا: ”کیا تمہارے پاس پانی ہے؟“ میرے پاس ایک چمڑے کا برتن تھا، میں نے اس سے پانی ڈالا، آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ اور چہرہ دھویا، پھر اپنے بازو دھونے لگے، آپ ﷺ نے تنگ آستینوں والا شامی جبہ پہن رکھا تھا، تو آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ لباس کے نیچے سے نکالے، ہاتھ اور چہرہ دھویا، اور بازو دھوئے، اور مسح کیا - ابن عون کہتے ہیں: اور کچھ اپنی پیشانی اور عمامے کا بھی ذکر کیا، مجھے یقین نہیں کہ میں نے صحیح طور پر یاد رکھا یا نہیں - اور موزوں پر مسح کیا، پھر فرمایا: ”تمہیں کوئی ضرورت ہو تو بتاؤ۔“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے کوئی ضرورت نہیں، پھر ہم چلے اور لوگوں کے پاس پہنچے تو دیکھا ابن عوف رضی اللہ عنہ انہیں صبح کی نماز پڑھا رہے تھے، انہوں نے ایک رکعت پڑھا دی تھی، میں انہیں بتانے کے لیے گیا تو آپ ﷺ نے مجھے روک دیا، چنانچہ جو رکعت ہمیں ملی وہ ہم نے پڑھی اور جو رہ گئی تھی وہ بعد میں پوری کی۔