حدیث نمبر: 17993
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زَكَرِيَّا الْغَلَابِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ رَجَاءٍ، ثنا عُمَرُ بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي السَّفَرِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنَّا فِي مَسِيرٍ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمَعَكَ مَاءٌ؟» قُلْتُ: نَعَمْ، فَنَزَلَ عَنْ رَاحِلَتِهِ ثُمَّ مَشَى حَتَّى تَوَارَى عَنِّي، فَلَمَّا أَقْبَلَ اسْتَقْبَلْتُهُ بِالْمِطْهَرَةِ فَتَوَضَّأَ وَغَسَلَ كَفَّيْهِ، وَغَسَلَ وَجْهَهُ وَكَانَتْ عَلَيْهِ جُبَّةٌ شَامِيَّةٌ ضَيِّقَةُ الْيَدَيْنِ، فَأَخْرَجَ يَدَهُ مِنْ تَحْتِ الْجُبَّةِ، وَغَسَلَ ذِرَاعَيْهِ وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ، ثُمَّ أَهْوَيْتُ إِلَى خُفَّيْهِ لِأَنْزِعَهُمَا، فَقَالَ: «دَعْهُمَا، فَإِنِّي أَدْخَلْتُهُمَا وَهُمَا طَاهِرَتَانِ» فَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ
ترجمہ

سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم ایک سفر میں تھے، رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس پانی ہے؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں، تو آپ ﷺ اپنی سواری سے اترے، پھر چلتے چلتے مجھ سے اوجھل ہو گئے، جب واپس آئے تو میں نے وضو کا برتن لے کر آپ ﷺ کا استقبال کیا، آپ ﷺ نے وضو کیا، اپنے ہاتھ دھوئے اور چہرہ دھویا، آپ ﷺ نے تنگ آستینوں والا ایک شامی جبہ پہن رکھا تھا، تو آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ جبے کے نیچے سے نکالا اور بازو دھوئے اور سر کا مسح کیا، پھر میں نے آپ ﷺ کے موزے اتارنے کے لیے ہاتھ بڑھایا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”انہیں رہنے دو، میں نے انہیں پاک حالت میں پہنا تھا۔“ چنانچہ آپ ﷺ نے موزوں پر مسح فرمایا۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الميم / حدیث: 17993
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 372، حدیث 868