المعجم الكبير للطبراني
باب الميم— حرف میم سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
مسروق بن وائل الحضرمي باب: سیدنا مسروق بن وائل حضرمی رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ الْحَذَّاءُ، ثنا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ عُتْبَةَ بْنِ أَبِي عُتْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّ مَسْرُوقَ بْنَ وَائِلٍ، قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ بِالْعَقِيقِ فَأَسْلَمَ وَحَسُنَ إِسْلَامُهُ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي أُحِبُّ أَنْ تَبْعَثَ إِلَى قَوْمِي رَجُلًا يَدْعُوهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ، وَأَنْ تَكْتُبَ لَنَا كِتَابًا إِلَى قَوْمِي عَسَى اللهُ أَنْ يَهْدِيَهُمْ بِهَا، فَقَالَ لِمُعَاوِيَةَ: " اكْتُبْ لَهُ: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، إِلَى الْأَفْنَادِ مِنْ حَضْرَمَوْتٍ بِإِقَامِ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَالصَّدَقَةِ عَلَى السَّعَةِ، وَالتِّيمَةِ فِي السُّيُوبِ الْخُمُسُ، وَفِي الْبَعْلِ الْعُشْرُ، لَا خِلَاطَ وَلَا وِرَاطَ، وَلَا شِغَارَ وَلَا شِنَاقَ، وَلَا جَنَبَ وَلَا جَلَبَ، وَلَا يُجْمَعُ بَيْنَ بَعِيرَيْنِ فِي عِقَالِ، مَنْ أَجْبَا فَقَدْ أَرْبَى، وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ «وَبَعَثَ إِلَيْهِمْ زِيَادَ بْنَ لَبِيدٍ الْأَنْصَارِيَّ» أَمَّا الْخِلَاطُ: فَلَا تُجْمَعُ الْمَاشِيَةُ، وَأَمَّا الْوِرَاطُ: فَلَا يُقَوِّمُهَا بِالْقِيمَةِ، وَأَمَّا الشِّغَارُ: فَيُزَوِّجُ الرَّجُلُ ابْنَتَهُ وَيُنْكِحُهُ الْآخَرُ ابْنَتَهُ بِلَا مَهْرٍ، وَالشِّنَاقُ: أَنْ يَعْقِلَهَا فِي مَبَارِكِهَا، وَالْإِجْبَاءُ: أَنْ تُبَاعَ الثَّمَرَةُ قَبْلَ أَنْ تُؤْمَنَ عَلَيْهَا الْعَاهَةُ "سیدنا مسروق بن وائل حضرمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: ... اور بارانی زمین میں دسواں حصہ زکوٰۃ ہے، نہ خلاط جائز ہے، نہ وراط، نہ شغار جائز ہے نہ شناق، نہ جنب جائز ہے نہ جلب، اور دو اونٹوں کو ایک ہی رسی میں اکٹھا نہ باندھا جائے، جس نے اجباء کیا اس نے سود کھایا، اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔ ”اور آپ ﷺ نے ان کی طرف زیاد بن لبید انصاری کو بھیجا۔“
خلاط کا مطلب یہ ہے کہ مویشی زکوٰۃ بچانے کے لیے اکٹھے نہ کیے جائیں، اور وراط یہ ہے کہ ان کی قیمت کا اندازہ غلط طریقے سے نہ لگایا جائے، اور شغار یہ ہے کہ آدمی اپنی بیٹی کسی کو بیاہ دے اور بدلے میں وہ اپنی بیٹی اسے بلا مہر بیاہ دے، اور شناق یہ ہے کہ بکریوں کو ان کے باڑوں میں زکوٰۃ بچانے کے لیے باندھ رکھا جائے، اور اجباء یہ ہے کہ پھل کو اس وقت تک بیچ دیا جائے جب تک اس پر آفت آنے کا خطرہ ٹل نہ جائے۔