حدیث نمبر: 17925
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّائِغُ الْمَكِّيُّ، ثنا أَبُو مَالِكِ بْنُ أَبِي فَارَةَ الْخُزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي أَبُو فَارَةَ، عَنْ أَبِيهِ الْوَلِيدِ، عَنْ جَدِّهِ مَسْعُودِ بْنِ خَالِدٍ، قَالَ: «بَعَثْتُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَاةً، ثُمَّ ذَهَبْتُ فِي حَاجَةٍ فَرَدَّ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَطْرَهَا» ، فَرَجَعْتُ إِلَى أُمِّ خُنَاسٍ - زَوْجَتِهِ - فَإِذَا عِنْدَهَا لَحْمٌ، فَقُلْتُ: يَا أُمَّ خُنَاسٍ، مَا هَذَا اللَّحْمُ؟ قَالَتْ: هَذَا اللَّحْمُ رَدَّهُ إِلَيْنَا خَلِيلُكَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الشَّاةِ الَّتِي بَعَثْتَ بِهَا إِلَيْهِ، قَالَ: مَا لَكِ لَا تَطْعَمُهُ عِيَالُكِ مُنْذُ غُدْوَةٍ؟ قَالَتْ: " هَذَا سُؤْرُهُمْ، وَكُلُّهُمْ قَدْ أَطْعَمْتُ، وَكَانُوا يَذْبَحُونَ الشَّاتَيْنِ وَالثَّلَاثَةَ وَلَا تُجْزِئُ عَنْهُمْ
ترجمہ

سیدنا مسعود بن خالد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ”میں نے رسول اللہ ﷺ کی طرف ایک بکری بھیجی، پھر ایک ضرورت کے لیے چلا گیا، تو رسول اللہ ﷺ نے ان کے گھر والوں کی طرف اس کا آدھا حصہ واپس بھیج دیا“، میں اپنی بیوی ام خناس کے پاس واپس آیا تو ان کے پاس گوشت تھا، میں نے کہا: اے ام خناس! یہ گوشت کیسا ہے؟ انہوں نے کہا: یہ وہ گوشت ہے جو آپ کے دوست ﷺ نے ہمیں اس بکری میں سے واپس بھیجا ہے جو آپ نے ان کی طرف بھیجی تھی۔ میں نے کہا: تم نے صبح سے اپنے بچوں کو یہ کیوں نہیں کھلایا؟ انہوں نے کہا: ”یہ ان کا بچا ہوا حصہ ہے، ورنہ میں نے سب کو کھلا دیا ہے، اور وہ دو دو تین تین بکریاں ذبح کر لیتے تھے پھر بھی انہیں کافی نہ ہوتیں۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الميم / حدیث: 17925
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 335، حدیث 794