المعجم الكبير للطبراني
باب الميم— حرف میم سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
مرثد بن أبي مرثد الغنوي " حليف حمزة بن عبد المطلب بدري استشهد يوم الرجيع " باب: سیدنا مرثد بن ابی مرثد غنوی رضی اللہ عنہ، سیدنا حمزہ بن عبدالمطلب کے حلیف، بدری صحابی، رجیع کے دن شہید ہوئے
حَدَّثَنَا أَبُو شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ النُّفَيْلِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، قَالَ: قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ أُحُدٍ نَفَرٌ مِنْ عَضَلٍ وَالْقَارَةِ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ فِينَا إِسْلَامًا فَابْعَثْ مَعَنَا نَفَرًا مِنْ أَصْحَابِكَ يُفَقِّهُونَا فِي الدِّينِ، وَيُقْرِئُونَا الْقُرْآنَ، وَيُعَلِّمُوننَا شَرَائِعَ الْإِسْلَامِ، " فَبَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَفَرًا سِتَّةً مِنْ أَصْحَابِهِ: مَرْثَدَ بْنَ أَبِي مَرْثَدٍ الْغَنَوِيَّ - حَلِيفَ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ - فَذَكَرَ الْقِصَّةَ قَالَ: وَأَمَّا مَرْثَدُ بْنُ أَبِي مَرْثَدٍ، وَخَالِدُ بْنُ الْبُكَيْرِ، وَعَاصِمُ بْنُ ثَابِتٍ فَقَالُوا: وَاللهِ لَا نَقْبَلُ مِنْ مُشْرِكٍ عَهْدًا، وَلَا عَقْدًا أَبَدًا، فَقَاتَلُوهُمْ حَتَّى قَتَلُوهُمْ "عاصم بن عمر بن قتادہ بیان کرتے ہیں: احد کے بعد عضل اور قارہ قبیلوں کے کچھ لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم میں اسلام کی رغبت ہے، تو آپ ہمارے ساتھ اپنے اصحاب میں سے کچھ لوگ بھیج دیجیے جو ہمیں دین کی سمجھ دیں، قرآن پڑھائیں اور اسلام کے احکام سکھائیں۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے اصحاب میں سے چھ افراد بھیجے: مرثد بن ابی مرثد غنوی - حمزہ بن عبدالمطلب کے حلیف - (اور دیگر) راوی نے پورا واقعہ بیان کیا، کہتے ہیں: جب حالات خراب ہوئے تو مرثد بن ابی مرثد، خالد بن بکیر اور عاصم بن ثابت نے کہا: اللہ کی قسم! ہم کسی مشرک سے نہ کوئی عہد قبول کریں گے اور نہ کوئی معاہدہ کریں گے، پس ان دشمنوں نے ان سے لڑائی کی یہاں تک کہ انہیں شہید کر دیا۔