المعجم الكبير للطبراني
باب الميم— حرف میم سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
مرة بن كعب السلمي ثم البهزي " وقد اختلف في اسمه فقيل: كعب بن مرة، والصواب: مرة بن كعب " باب: سیدنا مرہ بن کعب سلمی بہزی رضی اللہ عنہ (آپ کے نام میں اختلاف ہے، کہا گیا: کعب بن مرہ، صحیح نام مرہ بن کعب ہے)
حدیث نمبر: 17888
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ رَجُلٍ، مِنْ أَهْلِ الشَّامِ، عَنْ مُرَّةَ بْنِ كَعْبِ بْنِ مُرَّةَ الْبَهْزِيِّ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ؟ أَيُّ اللَّيْلِ أَسْمَعُ؟ قَالَ: «جَوْفُ اللَّيْلِ الْآخَرُ، ثَمَّ الصَّلَاةُ مَقْبُولَةٌ حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ، ثُمَّ لَا صَلَاةَ حَتَّى تَكُونَ الشَّمْسُ عَلَى قَدْرِ رُمْحٍ أَوْ رُمْحَيْنِ، ثَمَّ الصَّلَاةُ مَقْبُولَةٌ حَتَّى يَقُومَ الظِّلُّ قِيَامَ الرُّمْحِ، ثُمَّ لَا صَلَاةَ حَتَّى تَزُولَ الشَّمْسُ ثَمَّ الصَّلَاةُ مَقْبُولَةٌ حَتَّى تَكُونَ الشَّمْسُ قِيدَ رُمْحٍ أَوْ رُمْحَيْنِ، ثُمَّ لَا صَلَاةَ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ»ترجمہ
سیدنا مرہ بن کعب بہزی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! رات کا کون سا حصہ دعا کے لیے زیادہ سننے والا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”رات کا آخری پچھلا حصہ، پھر صبح نماز فجر طلوع ہونے تک قبول کی جاتی ہے، پھر جب تک سورج ایک یا دو نیزے کے برابر بلند نہ ہو جائے کوئی نماز نہیں پڑھی جاتی، پھر نماز اس وقت تک قبول ہوتی رہتی ہے جب تک سایہ نیزے کے برابر کھڑا نہ ہو جائے، پھر جب تک سورج ڈھل نہ جائے کوئی نماز نہیں، پھر نماز اس وقت تک قبول ہوتی رہتی ہے جب تک سورج ایک یا دو نیزے کے بقدر غروب سے پہلے رہ جائے، پھر جب تک سورج غروب نہ ہو جائے کوئی نماز نہیں۔“