المعجم الكبير للطبراني
باب الميم— حرف میم سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
مرة بن كعب السلمي ثم البهزي " وقد اختلف في اسمه فقيل: كعب بن مرة، والصواب: مرة بن كعب " باب: سیدنا مرہ بن کعب سلمی بہزی رضی اللہ عنہ (آپ کے نام میں اختلاف ہے، کہا گیا: کعب بن مرہ، صحیح نام مرہ بن کعب ہے)
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الصَّبَّاحِ الْعَطَّارُ، ثنا بَدَلُ بْنُ الْمُحَبَّرِ، ثنا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ، وَمَنْصُورُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ، وَقَتَادَةُ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، يُحَدِّثُ، عَنِ ابْنِ السِّمْطِ، قَالَ: قُلْتُ لِكَعْبِ بْنِ مُرَّةَ أَوْ مُرَّةَ بْنِ كَعْبٍ السُّلَمِيِّ - شَكَّ شُعْبَةُ -: حَدِّثْنَا حَدِيثًا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلَّهِ أَبُوكَ وَاحْذَرْ، قَالَ: دَعَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مُضَرَ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ قَدْ أَعْطَاكَ اللهُ وَاسْتَجَابَ لَكَ ونَصَرَكَ، وَإِنَّ قَوْمَكَ قَدْ هَلَكُوا فَادْعُ اللهَ لَهُمْ أَنْ يَسْقِيَهُمْ، فَقَالَ: «اللهُمَّ اسْقِنَا غَيْثًا مُغِيثًا، مَرِيئًا مَرِيعًا سَرِيعًا، غَدَقًا طَبَقًا عَاجِلًا غَيْرَ رَائِثٍ، نَافِعًا غَيْرَ ضَارٍّ» قَالَ: فَمَا أَتَتْ عَلَيْنَا جُمُعَةٌ حَتَّى مُطِرْنَا
فَقُلْتُ: حَدِّثْنَا حَدِيثًا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلَّهِ أَبُوكَ وَاحْذَرْ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَا مِنْ عَبْدٍ مُسْلِمٍ يُعْتِقُ رَجُلًا مُسْلِمًا إِلَّا كَانَ فَكَاكَهُ مِنَ النَّارِ، يُجْزِئُ بِكُلِّ عَظْمٍ مِنْ عِظَامِهِ عَظْمًا مِنْ عِظَامِهِ، وَمَا مِنْ عَبْدٍ مُسْلِمٍ يُعْتِقُ امْرَأَتَيْنِ مُسْلِمَتَيْنِ إِلَّا كَانَتَا فَكَاكَهُ مِنَ النَّارِ، يُجْزِئُ كُلُّ عَظْمَيْنِ مِنْ عِظَامِهِمَا عَظْمًا مِنْ عِظَامِهِ، وَمَا مِنِ امْرَأَةٍ مُسْلِمَةٍ تُعْتَقُ امْرَأَةً مُسْلِمَةً إِلَّا كَانَتْ فَكَاكَهَا مِنَ النَّارِ، يُجْزِئُ كُلُّ عَظْمٍ مِنْ عِظَامِهَا عَظْمًا مِنْ عِظَامِهَا مِنَ النَّارِ»سیدنا مرہ بہزی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ نے آپ کو وہ عطا فرما دیا، آپ کی دعا قبول فرما لی اور آپ کی مدد فرمائی، اور بےشک آپ کی قوم ہلاک ہو گئی ہے، تو اللہ سے ان کے لیے بارش کی دعا فرما دیجیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے اللہ! ہمیں فریاد رس، خوشگوار، سرسبزی لانے والی، جلد آنے والی، خوب برسنے والی، ہر طرف پھیلنے والی، فوری، بغیر تاخیر کے، نفع بخش اور نقصان سے پاک بارش عطا فرما۔“ راوی کہتے ہیں: ابھی ایک جمعہ بھی نہیں گزرا تھا کہ ہم پر بارش برسنے لگی۔
میں نے عرض کیا: ہمیں وہ حدیث بیان کیجیے جو آپ نے رسول اللہ ﷺ سے سنی، اللہ آپ کے والد پر رحم کرے، اور احتیاط برتیے۔ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”جو بھی مسلمان بندہ کسی مسلمان مرد کو آزاد کرے گا تو وہ اس کے لیے جہنم سے چھٹکارے کا سبب ہو گا، اس کی ہر ہڈی کے بدلے اس کی ایک ہڈی بچا دی جائے گی، اور جو بھی مسلمان بندہ دو مسلمان عورتوں کو آزاد کرے تو وہ دونوں اس کے لیے جہنم سے چھٹکارے کا سبب ہوں گی، ان دونوں کی ہر دو ہڈیوں کے بدلے اس کی ایک ہڈی بچا دی جائے گی، اور جو بھی مسلمان عورت کسی مسلمان عورت کو آزاد کرے تو وہ اس کے لیے جہنم سے چھٹکارے کا سبب ہو گی، اس کی ہر ہڈی کے بدلے اس کی ایک ہڈی آگ سے بچا دی جائے گی۔“