المعجم الكبير للطبراني
باب الميم— حرف میم سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
مرة بن كعب السلمي ثم البهزي " وقد اختلف في اسمه فقيل: كعب بن مرة، والصواب: مرة بن كعب " باب: سیدنا مرہ بن کعب سلمی بہزی رضی اللہ عنہ (آپ کے نام میں اختلاف ہے، کہا گیا: کعب بن مرہ، صحیح نام مرہ بن کعب ہے)
حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيِسِيُّ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ح وَحَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، قَالَا: ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي سُلَيْمُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ قَالَ: كُنَّا مُعَسْكِرِينَ مَعَ مُعَاوِيَةَ بَعْدَ قَتْلِ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهماُ، فَقَامَ مُرَّةُ بْنُ كَعْبٍ الْبَهْزِيُّ فَقَالَ: أَمَا وَاللهِ لَوْلَا شَيْءٌ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا قُمْتُ هَذَا الْمَقَامَ، قَالَ: فَلَمَّا سَمِعَ مُعَاوِيَةُ ذِكْرَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجْلَسَ النَّاسَ، فَقَالَ: بَيْنَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جُلُوسٌ إِذْ مَرَّ عُثْمَانُ مُرَجِّلًا مُعْدِقًا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَتَخْرُجَنَّ فِتْنَةٌ مِنْ تَحْتِ رِجْلِي - أَوْ مِنْ تَحْتِ قَدَمِي - هَذَا، وَمَنِ اتَّبَعَهُ يَوْمَئِذٍ عَلَى الْهُدَى» ، فَقُمْتُ حَتَّى أَخَذْتُ بِمَنْكِبِ عُثْمَانَ حَتَّى لَفَتُّهُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: هَذَا؟ قَالَ: «نَعَمْ، هَذَا وَمَنِ اتَّبَعَهُ يَوْمَئِذٍ عَلَى الْهُدَى» ، فَقَامَ عَبْدُ اللهِ بْنُ حَوَالَةَ الْأَنْصَارِيُّ مِنْ عِنْدِ الْمِنْبَرِ فَقَالَ: «إِنَّكَ لِصَاحِبُ هَذَا؟» قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: «أَمَا وَاللهِ إِنِّي حَاضِرٌ ذَلِكَ الْمَجْلِسَ، وَلَوْ كُنْتُ أَعْلَمُ أَنَّ لِي فِي الْجَيْشِ مُصَدِّقًا لَكُنْتُ أَوَّلَ مَنْ تَكَلَّمَ بِهِ»سیدنا مرہ بہزی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھے تھے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ بال سنوارے، خوش لباس گزرے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”عنقریب ایک فتنہ میرے پاؤں کے نیچے سے - یا میرے قدم کے نیچے سے - نکلے گا، اور یہ اور اس کے پیروکار اس دن ہدایت پر ہوں گے۔“ میں کھڑا ہوا اور سیدنا عثمان کا کندھا پکڑ کر انہیں رسول اللہ ﷺ کی طرف موڑا، اور عرض کیا: کیا یہی ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، یہ اور اس کے پیروکار اس دن ہدایت پر ہوں گے۔“ اس پر سیدنا عبداللہ بن حوالہ انصاری رضی اللہ عنہ منبر کے پاس سے کھڑے ہوئے اور کہا: کیا تم اسی کے بارے میں کہہ رہے ہو؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ عبداللہ بن حوالہ نے کہا: ”سن لو، اللہ کی قسم! میں اس مجلس میں حاضر تھا، اور اگر مجھے معلوم ہوتا کہ لشکر میں کوئی میری تصدیق کرنے والا ہے تو میں سب سے پہلے یہ بات لوگوں کو بتاتا۔“