حدیث نمبر: 17828
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ بِشْرِ بْنِ مِحْجَنٍ الدِّيلِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ صَلَّيْتُ فِي أَهْلِي، فَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَجَلَسْتُ، فَلَمَّا صَلَّى قَالَ: «أَلَسْتَ مُسْلِمًا؟» قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: «مَا مَنَعَكَ أَنْ تُصَلِّيَ مَعَ النَّاسِ؟» قَالَ: كُنْتُ صَلَّيْتُ فِي أَهْلِي، قَالَ: «فَصَلِّ مَعَ النَّاسِ وَإِنْ كُنْتَ قَدْ صَلَّيْتَ فِي أَهْلِكَ» كَذَا رَوَاهُ سُفْيَانُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ بِشْرِ بْنِ مِحْجَنٍ، وَوَهِمَ فِيهِ إِنَّمَا هُوَ بُسْرُ بْنُ مِحْجَنٍ " هَكَذَا رَوَاهُ مَالِكٌ، وَأَصْحَابُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ
ترجمہ

سیدنا محجن رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم ﷺ کے پاس آیا، جبکہ میں اپنے گھر میں نماز پڑھ چکا تھا، پھر نماز کھڑی ہوئی تو میں بیٹھا رہا، جب آپ ﷺ نے نماز پڑھا لی تو فرمایا: ”کیا تم مسلمان نہیں ہو؟“ میں نے عرض کیا: کیوں نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہیں لوگوں کے ساتھ نماز پڑھنے سے کس چیز نے روکا؟“ میں نے عرض کیا: میں اپنے گھر میں نماز پڑھ چکا تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”لوگوں کے ساتھ بھی نماز پڑھو، اگرچہ تم اپنے گھر میں نماز پڑھ چکے ہو۔“

سفیان نے اسے زید بن اسلم سے، انہوں نے بشر بن محجن سے اسی طرح روایت کیا ہے، اور اس میں انہیں وہم ہوا ہے، صحیح یہ ہے کہ یہ بسر بن محجن ہیں، امام مالک اور زید بن اسلم کے دیگر شاگردوں نے اسی طرح روایت کیا ہے۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الميم / حدیث: 17828
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 293، حدیث 696