❮
❯
حدیث نمبر: 17776
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ أَيُّوبَ بْنِ حَذْلَمٍ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ثنا خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ أَبِي مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبٍ، أَنَّهُ كَانَ غَازِيًا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَزَلُوا إِلَى جَانِبِ حَظَائِرِ يَهُودَ بِخَيْبَرٍ، فَتَنَاوَلَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهَا، فَانْطَلَقْتِ الْيَهُودُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَشَكَوْا ذَلِكَ إِلَيْهِ، فَبَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ فَنَادَى: «الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ، وَلَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا مُسْلِمٌ» ، فَقَامَ فِينَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: " مَاذَا يَحِلُّ لَكُمْ مِنْ أَمْوَالِ الْمُعَاهِدِينَ لِغَيْرِ حَقِّهَا؟ يَقُولُونَ: مَا وَجَدْنَا فِي كِتَابِ اللهِ مِنْ حَلَالٍ أَحْلَلْنَاهُ، وَمَا وَجَدْنَاهُ مِنْ حَرَامٍ حَرَّمْنَاهُ، أَلَا وَإِنِّي أُحَرِّمُ أَمْوَالَ الْمُعَاهِدِينَ وَكُلَّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ، وَمَا سُخِّرَ مِنَ الدَّوَابِّ إِلَّا مَا سَمَّى اللهُ "
ترجمہ

سیدنا مقدام بن معدی کرب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک غزوے میں تھے، تو وہ خیبر میں یہود کے باڑوں کے پہلو میں اترے، تو رسول اللہ ﷺ کے صحابہ نے ان میں سے کچھ لے لیا، تو یہود رسول اللہ ﷺ کے پاس گئے اور اس کی شکایت کی، تو رسول اللہ ﷺ نے خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو بھیجا، انہوں نے اعلان کیا: ”نماز کے لیے جمع ہو جاؤ، اور مسلمان کے سوا کوئی جنت میں داخل نہیں ہو گا۔“ تو رسول اللہ ﷺ ہمارے درمیان کھڑے ہوئے، اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا: ”تمہارے لیے معاہد لوگوں کے مال میں سے کیا چیز بلاحق حلال ہے؟ لوگ کہتے ہیں: جو کچھ ہمیں اللہ کی کتاب میں حلال ملا ہم نے اسے حلال جانا، اور جو حرام ملا اسے حرام جانا، سنو! میں معاہد لوگوں کے مال کو، اور ہر نوکیلے دانت والے درندے کو، اور مسخر کیے گئے (پالتو) جانوروں کو حرام قرار دیتا ہوں، سوائے ان کے جن کا اللہ نے نام لیا ہے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الميم / حدیث: 17776
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 271، حدیث 642