المعجم الكبير للطبراني
باب الميم— حرف میم سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
المقدام بن معدي كرب الكندي " يكنى أبا كريمة وقد قيل: أبا يحيى، نزل الشام ومات بها " باب: سیدنا مقدام بن معدی کرب کندی رضی اللہ عنہ، کنیت ابوکریمہ (یہ بھی کہا گیا: ابویحییٰ)، شام میں رہائش اختیار کی اور وہیں وفات پائی
حدیث نمبر: 17754
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عِيسَى بْنِ الْمُنْذِرِ، ثنا أَبِي، ثنا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ رَاشِدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ الْمِقْدَامَ بْنَ مَعْدِي كَرِبٍ صَاحِبَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَكْثَرُ النَّاسِ يَقُولُونَ: الْقَضَاءُ فِي مِائَةِ عَامٍ - يَعْنُونَ بَعْدَ مِائَةِ سَنَةٍ تَكُونُ الْقِيَامَةُ - فَقَالَ الْمِقْدَامُ: «قَدْ أَكْثَرْتُمْ، لَنْ يَعْجَزَ اللهُ أَنْ يُؤَخِّرَ هَذِهِ الْأُمَّةَ نِصْفَ يَوْمٍ» يَعْنِي خَمْسَمِائَةِ عَامٍترجمہ
…میں نے رسول اللہ ﷺ کے صحابی سیدنا مقدام بن معدی کرب رضی اللہ عنہ کو سنا، جبکہ اکثر لوگ کہہ رہے تھے: فیصلہ سو سال میں ہو گا - یعنی سو سال کے بعد قیامت آئے گی - تو سیدنا مقدام رضی اللہ عنہ نے کہا: ”تم نے بہت مبالغہ کیا، اللہ اس بات سے عاجز نہیں کہ اس امت کو آدھا دن مؤخر کر دے“ - یعنی پانچ سو سال۔