❮
❯
حدیث نمبر: 17732
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ قَالَ: جَاءَنَا الْمِقْدَادُ بْنُ الْأَسْوَدِ لِحَاجَةٍ لَهُ، فَقُلْنَا: اجْلِسْ عَافَاكَ اللهُ حَتَّى تَطْلُبَ حَاجَتَكَ، قَالَ: الْعَجَبُ مِنْ قَوْمٍ مَرَرْتُ بِهِمْ آنِفًا يَتَمَنَّوْنَ الْفِتْنَةَ، يَزْعُمُونَ لَيَبْتَلِيهِمُ اللهُ فِيهَا بِمَا ابْتَلَى رَسُولَهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهُ، وَأَيْمُ اللهِ لَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ السَّعِيدَ لَمَنْ جُنِّبَ الْفِتَنَ - يُرَدِّدُهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ - وَإِنِ ابْتُلِيَ فَصَبَرَ»
وَأَيْمُ اللهِ، لَا أَشْهَدُ لِأَحَدٍ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ حَتَّى أَعْلَمَ مَا يَمُوتُ عَلَيْهِ بَعْدَ حَدِيثٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَقَلْبُ ابْنِ آدَمَ أَسْرَعُ انْقِلَابًا مِنَ الْقَدْرِ إِذَا اسْتَجْمَعَتْ غَلْيًا»
ترجمہ

جبیر بن نفیر رحمہ اللہ کہتے ہیں: سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ اپنی کسی ضرورت کے سلسلے میں ہمارے پاس آئے، تو ہم نے کہا: اللہ آپ کو عافیت دے، بیٹھ جائیے یہاں تک کہ آپ اپنی ضرورت پوری کر لیں۔ انہوں نے کہا: تعجب ہے ان لوگوں پر جن کے پاس سے میں ابھی گزرا ہوں، وہ فتنے کی تمنا کرتے ہیں، ان کا خیال ہے کہ اللہ انہیں اس میں اسی طرح آزمائے گا جس طرح اس نے اپنے رسول ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ کی آزمائش کی، اور اللہ کی قسم! میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”خوش نصیب وہی ہے جو فتنوں سے دور رکھا گیا“ - آپ ﷺ نے یہ تین بار دہرایا - ”اور اگر وہ آزمایا جائے تو صبر کرے۔“ اور اللہ کی قسم! میں کسی کے بارے میں اس وقت تک جنتی ہونے کی گواہی نہیں دیتا جب تک مجھے یہ معلوم نہ ہو کہ وہ کس حال پر مرا، اس حدیث کے بعد جو میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنی، میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”ابن آدم کا دل ابلتی ہوئی ہانڈی سے بھی زیادہ تیزی سے پلٹتا ہے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الميم / حدیث: 17732
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 252، حدیث 598