المعجم الكبير للطبراني
باب الميم— حرف میم سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عبد الرحمن بن أبي ليلى، عن المقداد باب: عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ کی سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، وَجَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْيَابِيُّ، قَالَا: ثنا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَا: ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْمِقْدَادِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ أَنَا وَصَاحِبَانِ لِي، فَجَعَلْنَا نَتَعَرَّضُ لِلنَّاسِ فَلَمْ يُضِفْنَا أَحَدٌ، فَأَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ، أَصَابَنَا جُوعٌ شَدِيدٌ فَتَعَرَّضْنَا لِلنَّاسِ فَلَمْ يُضِفْنَا أَحَدٌ، فَذَهَبَ بِنَا إِلَى مَنْزِلِهِ وَعِنْدَهُ أَرْبَعَةُ أَعْنُزٍ، فَقَالَ: «يَا مِقْدَادُ، احْلِبْهُنَّ» وَجَزَّأَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِكُلِّ إِنْسَانٍ مِنَّا جُزْءًا، فَكُنْتُ أَفْعَلُ ذَلِكَ، فَرَفَعْتُ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جُزْأَهُ فَأَبْطَأَ عَلَيْنَا فَاضْطَجَعْتُ عَلَى فِرَاشِي، فَقَالَتْ لِي نَفْسِي: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى أَهْلَ بَيْتٍ مِنَ الْأَنْصَارِ فَأَكَلَ عِنْدَهُمْ وَشَرِبَ، وَلَوْ أَنَّكَ شَرِبْتَ هَذِهِ الشَّرْبَةَ؟ فَلَمْ تَزَلْ نَفْسِي حَتَّى شَرِبْتُهَا، فَلَمَّا تَقَارَّ فِي بَطْنِي أَخَذَنِي مَا قَدُمَ وَمَا حَدُثَ، قَالَتْ لِي نَفْسِي: يَجِيءُ الْآنَ ظَمْآنَ، فَلَا يَجِدُ شَيْئًا، فَاضْطَجَعْتُ وسَجَّيْتُ الثَّوْبِ عَلَيَّ، فَجَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمَ تَسْلِيمًا يُسْمِعُ الْيَقْظَانَ، وَلَا يُوقِظُ النَّائِمَ، ثُمَّ أَتَى الْإِنَاءَ فَكَشَفَ عَنْهُ فَلَمْ يَرَ شَيْئًا، فَقَالَ: «اللهُمَّ أَطْعِمْ مَنْ أَطْعَمَنِي وَاسْقِ مَنْ سَقَانِي» فَاغْتَنَمْتُ دَعْوَتَهُ فَنَهَضْتُ فَأَخَذْتُ الشَّفْرَةَ فَدَنَوْتُ مِنَ الْغَنَمِ فَنَظَرْتُ أَيُّهُنَّ أَسْمَنُ لِأَذْبَحَهَا، فَدَنَوْتُ مِنْ وَاحِدَةٍ فَجَسَسْتُهَا فَنَظَرْتُ فَإِذَا هِيَ حَافِلٌ، وَنَظَرْتُ إِلَى أُخْرَى، فَإِذَا هِيَ حَافِلٌ، فَنَظَرْتُ إِلَى الْأُخْرَى فَإِذَا هِيَ حَافِلٌ، فَنَظَرْتُ كُلَّهُنَّ فَإِذَا هُنَّ حُفَّلٌ، فَأَخَذْتُ الْإِنَاءَ فَحَلَبْتُ فِيهِ فَقُلْتُ: اشْرَبْ، فَقَالَ: «الْخَبَرَ يَا مِقْدَادُ» ، فَقُلْتُ: اشْرَبْ ثُمَّ الْخَبَرَ، فَقَالَ: «بَعْضَ سَوْاءَتِكَ يَا مِقْدَادُ» فَشَرِبَ ثُمَّ قَالَ: «اشْرَبْ» ، فَقُلْتُ: اشْرَبْ يَا رَسُولَ اللهِ، فَشَرِبَ حَتَّى تَضَلَّعَ، ثُمَّ أَخَذْتُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَشَرِبْتُ، ثُمَّ أَخْبَرْتُهُ الْخَبَرَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَذِهِ بَرَكَةٌ نَزَلَتْ مِنَ السَّمَاءِ، أَفَلَا أَخْبَرْتَنِي حَتَّى أَسْقِيَ صَاحِبَيْكَ؟» فَقُلْتُ: إِذَا أُصِبْتُ أَنَا وَأَنْتَ مَا أُبَالِي مَنْ أَخْطَأَتْ…تو ہم نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمیں سخت بھوک لگی ہے، ہم نے لوگوں کے سامنے اپنی حالت پیش کی مگر کسی نے ہماری مہمان نوازی نہ کی۔ تو آپ ﷺ ہمیں اپنے گھر لے گئے، وہاں چار بکریاں تھیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے مقداد! انہیں دوہ لو۔“ اور نبی کریم ﷺ نے ہم میں سے ہر شخص کے لیے ایک حصہ تقسیم فرما دیا، میں ایسا ہی کرتا رہا، میں نے رسول اللہ ﷺ کا حصہ الگ رکھ دیا مگر آپ ﷺ کے آنے میں دیر ہو گئی، تو میں اپنے بستر پر لیٹ گیا۔ میرے نفس نے مجھ سے کہا: رسول اللہ ﷺ انصار کے کسی گھرانے کے پاس گئے ہوں گے، وہاں کھایا پیا ہو گا، تو کیوں نہ تم یہ پیالہ پی لو؟ میرا نفس مجھے اکساتا رہا یہاں تک کہ میں نے وہ پی لیا۔ جب وہ میرے پیٹ میں ٹھہر گیا تو مجھے اپنے پچھلے اور نئے دونوں گناہ یاد آنے لگے۔ میرے نفس نے مجھ سے کہا: اب آپ ﷺ پیاسے آئیں گے اور کچھ نہیں پائیں گے۔ تو میں لیٹ گیا اور اپنے اوپر کپڑا ڈال لیا۔ اتنے میں رسول اللہ ﷺ تشریف لائے، آپ ﷺ نے ایسا سلام کیا جو جاگنے والے کو سنائی دے اور سونے والے کو نہ جگائے، پھر برتن کے پاس آئے اور اسے کھولا تو کچھ نہ پایا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے اللہ! جس نے مجھے کھلایا اسے تو کھلا، اور جس نے مجھے پلایا اسے تو پلا۔“ میں نے آپ ﷺ کی اس دعا کو غنیمت جانا، اٹھا اور چھری لے کر بکریوں کے پاس گیا، دیکھنے لگا کہ ان میں سے کون سی زیادہ موٹی ہے تاکہ اسے ذبح کروں، ایک کے قریب گیا تو محسوس کیا کہ اس کا تھن بھرا ہوا ہے، دوسری کو دیکھا تو وہ بھی بھری ہوئی، تیسری کو دیکھا تو وہ بھی بھری ہوئی، سب کو دیکھا تو سب کے تھن بھرے ہوئے تھے۔ تو میں نے برتن لیا اور اس میں دودھ دوہا، پھر عرض کیا: پی لیجیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے مقداد! پہلے خبر تو دو۔“ میں نے عرض کیا: پہلے پی لیجیے، پھر خبر دوں گا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے مقداد! تمہاری کچھ برائیوں میں سے ایک برائی۔“ پھر آپ ﷺ نے پیا، پھر فرمایا: ”پیو۔“ میں نے عرض کیا: آپ پی لیجیے، یا رسول اللہ! تو آپ ﷺ نے سیر ہو کر پیا، پھر میں نے رسول اللہ ﷺ کے بعد پیا، پھر میں نے آپ ﷺ کو ساری خبر بتائی، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یہ برکت آسمان سے اتری ہے، تم نے مجھے پہلے کیوں نہ بتایا تاکہ میں تمہارے دونوں ساتھیوں کو بھی پلاتا؟“ تو میں نے عرض کیا: جب میں اور آپ پی چکے تو مجھے پروا نہیں کہ کس سے کچھ رہ گیا۔