حدیث نمبر: 17572
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ غُلَيْبٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ زَبَّانَ بْنِ فَايِدٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مِنَ الْعِبَادِ عَبَّادٌ لَا يُكَلِّمُهُمُ اللهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا يُزَكِّيهِمْ، وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ» ، قَالُوا: مَنْ أُولَئِكَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: «مُتَبَرِّئٌ مِنْ وَالِدَيْهِ رَاغِبٌ عَنْهُمَا، وَمُتَبَرِّئٌ مِنْ وَلَدِهِ، وَرَجُلٌ أَنْعَمَ عَلَيْهِ قَوْمٌ نِعْمَةً فَكَفَرَ بِنِعْمَتِهِمْ وَتَبَرَّأَ مِنْهُمْ»
ترجمہ

سیدنا معاذ بن انس جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بندوں میں سے کچھ عبادت گزار ایسے ہوں گے جن سے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن نہ کلام فرمائے گا، نہ انہیں پاک قرار دے گا، اور نہ ان کی طرف دیکھے گا۔“ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! وہ کون لوگ ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ جو اپنے والدین سے بیزار ہو کر ان سے بے رغبتی اختیار کرے، اور جو اپنی اولاد سے بیزار ہو، اور وہ شخص جسے کسی قوم نے کوئی احسان کیا ہو تو وہ ان کے احسان کا انکار کر کے ان سے بیزار ہو جائے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الميم / حدیث: 17572
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 195، حدیث 437