حدیث نمبر: 17502
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا عُمَرُ بْنُ ذَرٍّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يَذْكُرُ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ إِنَّهُ لَيَعْرِضُ فِي صَدْرِي الشَّيْءُ لِأَنْ أَكُونَ حُمَمَةً أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَتَكَلَّمَ بِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْحَمْدُ لِلَّهِ إِنَّ الشَّيْطَانَ قَدْ أَيِسَ مِنْ أَنْ يُعْبَدَ بِأَرْضِي هَذِهِ، وَلَكِنَّهُ قَدْ رَضِيَ بِالْمُحَقَّرَاتِ مِنْ أَعْمَالِكُمْ»
ترجمہ

سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا، میرے دل میں ایسی بات آتی ہے کہ اگر میں کوئلہ (جل کر راکھ) بن جاؤں تو یہ مجھے اس سے زیادہ پسند ہے کہ میں اسے زبان پر لاؤں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، بےشک شیطان اس بات سے مایوس ہو چکا ہے کہ اسے میری اس سرزمین میں پوجا جائے، لیکن وہ تمہارے (نیک) اعمال میں سے حقیر اعمال (یعنی معمولی وسوسوں) پر راضی ہو گیا ہے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الميم / حدیث: 17502
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 172، حدیث 367