المعجم الكبير للطبراني
باب الميم— حرف میم سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عبد الله بن مسلم الحضرمي، ويقال: عبيد الله، عن معاذ بن جبل باب: عبداللہ بن مسلم حضرمی (یہ بھی کہا گیا: عبیداللہ) کی سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ بْنِ الصَّبَّاحِ الرَّقِّيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّقِّيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللهِ التَّيْمِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُسْلِمٍ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مِنِ امْرَأَيْنِ مُسْلِمَيْنِ يَمُوتُ لَهُمَا فِي الْإِسْلَامِ ثَلَاثَةُ أَوْلَادٍ لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ إِلَّا أَدْخَلَهُمُ اللهُ الْجَنَّةَ بِفَضْلِ رَحْمَتِهِ إِيَّاهُمَا» قَالَ مُعَاذٌ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، وَاثْنَانِ؟ قَالَ: «وَاثْنَانِ» قُلْتُ: وَوَاحِدٌ؟ قَالَ: «وَوَاحِدٌ، حَتَّى إِنَّ السِّقْطَ لَيَجُرُّ أُمَّهُ بِسَرَرِهِ إِذَا احْتَسَبَتْهُ»…زید بن ابی انیسہ کے واسطے سے، وہ یحییٰ بن عبداللہ تیمی سے، وہ عبداللہ بن مسلم حضرمی سے، وہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کوئی مسلمان مرد و عورت ایسے نہیں کہ اسلام میں ان کی تین اولادیں، جو بلوغت کو نہ پہنچی ہوں، فوت ہوں مگر اللہ اپنی رحمت کے فضل سے انہیں جنت میں داخل کرے“، معاذ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اور دو؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اور دو بھی“، میں نے عرض کیا: اور ایک؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اور ایک بھی، یہاں تک کہ ساقط شدہ بچہ بھی اپنی ماں کو اپنی ناف کی ڈوری سے کھینچے گا، اگر وہ اسے شمار کرے (صبر کرے)۔“