المعجم الكبير للطبراني
باب الجيم— حرف جیم سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
ومن غرائب حديث جابر بن عبد الله رضي الله عنه باب: سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کی نادر روایات
حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنْبَاعِ رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: أَبْصَرَتْ عَيْنَاي وَسَمِعَتْ أُذُنَاي رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِالْجِعْرَانَةِ وَفِي ثَوْبِ بِلَالٍ فِضَّةٌ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْبِضُهَا لِلنَّاسِ فَيُعْطِيهِمْ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللهِ اعْدِلْ قَالَ: «وَيْلَكَ فَمَنْ يَعْدِلُ إِذَا لَمْ أَعْدَلْ؟ لَقَدْ خِبْتَ وَخَسِرْتَ إِنْ لَمْ أَكُنْ أَعْدَلُ» ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: دَعْنِي يَا رَسُولَ اللهِ فَلْأَقْتُلْ هَذَا الْمُنَافِقَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَعَاذَ اللهِ أَنْ يَتَحَدَّثَ النَّاسُ أَنِّي أَقْتُلُ أَصْحَابِي، إِنَّ هَذَا وَأَصْحَابَهُ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ حُلُوقَهُمْ أَوْ حَنَاجِرَهُمْ يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ مُرُوقَ السَّهْمِ مِنَ الرَّمِيَّةِ»سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ...جعرانہ کے مقام پر، اور بلال رضی اللہ عنہ کے کپڑے میں چاندی تھی، اور رسول اللہ ﷺ اسے لوگوں کے لیے مٹھیوں میں بھر بھر کر دے رہے تھے، تو ایک آدمی نے آپ ﷺ سے کہا: یا رسول اللہ، انصاف کیجیے! آپ ﷺ نے فرمایا: ”تیری خرابی ہو! اگر میں انصاف نہ کروں تو پھر کون انصاف کرے گا؟ تو نامراد اور خسارے میں رہا اگر میں انصاف نہ کروں“، تو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ، مجھے اجازت دیجیے کہ میں اس منافق کو قتل کر دوں، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی پناہ کہ لوگ یہ کہیں کہ میں اپنے ساتھیوں کو قتل کرتا ہوں، بے شک یہ اور اس کے ساتھی قرآن پڑھیں گے لیکن وہ ان کے حلق یا گلوں سے نیچے نہیں اترے گا، وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔“