❮
❯
حدیث نمبر: 17395
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ السَّقَطِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبُو كُرَيْبٍ، سَنَةَ ثَلَاثِينَ وَمِائَتَيْنِ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ يَزِيدَ الْأَوْدِيِّ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ سَبِيلٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ، فَلَمَّا سِرْتُ أَرْسَلَ فِي أَثَرِي فَرَدَدْتُ، فَقَالَ: «أَتَدْرِي لِمَ بَعَثْتُ إِلَيْكَ؟ لَا تُصِيبَنَّ شَيْئًا بِغَيْرِ عِلْمٍ، فَإِنَّهُ غُلُولٌ، وَمَنْ يَغْلُلْ يَأْتِ بِمَا غَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، لِهَذَا دَعَوْتُكَ، فَامْضِ لِعَمَلِكَ»
ترجمہ

قیس بن ابی حازم رحمہ اللہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، وہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے مجھے یمن کی طرف بھیجا، تو جب میں چل پڑا تو آپ ﷺ نے میرے پیچھے (کسی کو) بھیج کر بلوایا، تو میں واپس لوٹا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تمہیں معلوم ہے کہ میں نے تمہیں کیوں بلوایا؟ بغیر علم کے کوئی چیز مت لینا، کیونکہ یہ خیانت ہے، اور جو خیانت کرے وہ قیامت کے دن اسے اپنے ساتھ لے کر آئے گا جو اس نے خیانت کی، اسی لیے میں نے تمہیں بلایا، اب جاؤ اپنے کام کے لیے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الميم / حدیث: 17395
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 128، حدیث 259