المعجم الكبير للطبراني
باب الميم— حرف میم سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
الحسن بن جابر القرشي، عن معاذ بن جبل باب: حسن بن جابر قرشی کی سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِرْقٍ الْحِمْصِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُصَفَّى، ثنا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا عَقِيلُ بْنُ مُدْرِكٍ، عَنْ لُقْمَانَ بْنِ عَامِرٍ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ جَابِرٍ الْقُرَشِيِّ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، أَنَّهُ سَمِعَ خَشْخَشَةً، فَأَخَذَهُ فَقَالَ: مَنْ أَنْتَ؟ فَقَالَ: أَنَا شَيْطَانٌ، فَقَالَ: أَجِبْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: دَعْنِي فَإِنِّي لَا أَعُودُ، فَخَلَّى سَبِيلَهُ، فَلَمَّا غَدَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يَا مُعَاذُ، مَا فَعَلَ أَسِيرُكَ؟» قَالَ: سَرَّحْتُهُ، فَلَمَّا كَانَتِ اللَّيْلَةُ الثَّانِيَةُ إِذَا هُوَ قَدْ حَسَّ بِهِ فَأَخَذَهُ، فَطَلَبَ إِلَيْهِ أَيْضًا، وَحَلَفَ أَنْ لَا يَعُودَ، فَخَلَّى عَنْهُ، فَلَمَّا كَانَتِ اللَّيْلَةُ الثَّالِثَةُ حَسَّ بِهِ وَأَخَذَهُ، وَطَلَبَ إِلَيْهِ أَيْضًا، وَحَلَفَ أَنْ لَا يَعُودَ، فَأَبَى أَنْ يُسَرِّحَهُ، فَقَالَ: خَلِّ عَنِّي حَتَّى أُعَلِّمَكَ آيَةً إِذَا قَرَأْتَهَا لَمْ نَقْرَبْ ذَلِكَ الْمَوْضِعَ، وَعَلَّمَهُ آيَةَ الْكُرْسِيِّ، فَخَلَّى عَنْهُ وَغَدَا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ بِمَا كَانَ، فَقَالَ: «صَدَقَ وَإِنْ كَانَ كَذُوبًا»…تو کہا: رسول اللہ ﷺ کی بات مان لو، اس نے کہا: مجھے چھوڑ دو، میں دوبارہ نہیں آؤں گا، تو اس نے اسے چھوڑ دیا، پھر جب نبی کریم ﷺ کے پاس صبح حاضر ہوا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے معاذ! تمہارے قیدی نے کیا کیا؟“ اس نے کہا: میں نے اسے چھوڑ دیا، پھر جب دوسری رات ہوئی تو اسے پھر محسوس کر کے پکڑ لیا، اس نے پھر التجا کی اور قسم کھائی کہ دوبارہ نہیں آئے گا، تو اس نے اسے چھوڑ دیا، پھر جب تیسری رات ہوئی تو اسے پھر محسوس کر کے پکڑ لیا، اور اس نے پھر التجا کی اور قسم کھائی کہ دوبارہ نہیں آئے گا، تو اس بار اس نے اسے چھوڑنے سے انکار کر دیا، تو اس نے کہا: مجھے چھوڑ دو تاکہ میں تمہیں ایک آیت سکھا دوں کہ جب تم اسے پڑھو گے تو ہم اس جگہ کے قریب نہیں آئیں گے، تو اس نے اسے آیت الکرسی سکھا دی، تو اس نے اسے چھوڑ دیا، اور صبح رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہوا اور جو کچھ ہوا وہ بتایا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس نے سچ کہا حالانکہ وہ بڑا جھوٹا ہے۔“