المعجم الكبير للطبراني
باب الميم— حرف میم سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
خالد بن معدان، عن معاذ بن جبل باب: خالد بن معدان کی سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا عِصْمَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْخَزَّازُ، ثنا حَازِمٌ، مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، عَنْ لُمَازَةَ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: شَهِدَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِمْلَاكَ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَقَالَ لَهُ: «عَلَى الْخَيْرِ وَالْأُلْفَةِ، وَالطَّائِرِ الْمَيْمُونِ، وَالسَّعَةِ فِي الرِّزْقِ، بَارِكَ اللهُ لَكُمْ، دَفِّفُوا عَلَى رَأْسِهِ» ، فَجِئَ بِدُفٍّ فَضُرِبَ بِهِ، فَأَقْبَلَتِ الْأَطْبَاقُ وَعَلَيْهَا فَاكِهَةٌ وَسُكَّرٍ، فَنُثِرَ عَلَيْهِ، فَكَفَّ النَّاسُ أَيْدِيَهُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا لَكُمْ لَا تَنْتَهِبُونَ؟» قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ أَوَلَمْ تَنْهَ عَنِ النُّهْبَةِ؟ قَالَ: «إِنَّمَا نَهَيْتُكُمْ عَنْ نُهْبَةِ الْعَسَاكِرِ، فَأَمَّا الْعُرُسَاتِ فَلَا» ، قَالَ: فَجَاذَبَهُمْ وَجَاذَبُوهُ…بنی ہاشم کے مولا کے واسطے سے، وہ لمازہ سے، وہ ثور بن یزید سے، وہ خالد بن معدان سے، وہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، وہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ اپنے ایک صحابی کی شادی کی تقریب میں حاضر ہوئے، تو آپ ﷺ نے اس سے فرمایا: ”خیر و برکت، محبت، مبارک قدم، اور رزق کی وسعت کے ساتھ، اللہ تمہارے لیے برکت ڈالے، اس کے سر پر دف بجاؤ“، تو دف لایا گیا اور بجایا گیا، پھر تھال آئے جن پر پھل اور شکر تھی، تو اسے اس پر بکھیرا گیا، تو لوگوں نے اپنے ہاتھ روک لیے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تمہیں کیا ہوا کہ تم لپکتے نہیں؟“ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا آپ نے لوٹ مار سے منع نہیں فرمایا تھا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے تمہیں صرف لشکروں کی لوٹ مار سے منع کیا تھا، لیکن شادیوں میں ایسا نہیں“، راوی کہتے ہیں: تو آپ ﷺ نے بھی ان کے ساتھ (شکر) اکٹھا کرنے کی کوشش کی اور انہوں نے بھی (آپ ﷺ کے ساتھ)۔