المعجم الكبير للطبراني
باب الميم— حرف میم سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
يزيد بن مرثد، عن معاذ بن جبل باب: یزید بن مرثد کی سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ يُوسُفَ بْنِ يَعْقُوبَ الْبَلْخِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ الْمَرْوَزِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا خَطَّابُ بْنُ سَعِيدٍ الدِّمَشْقِيُّ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ قَالَا: ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ قَالَا: ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، عَنِ الْوَضِينِ بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «خُذُوا الْعَطَاءَ مَا دَامَ عَطَاءً، فَإِذَا صَارَ رِشْوَةً فِي الدِّينِ فَلَا تَأْخُذُوهُ، وَلَسْتُمْ بِتَارِكِيهِ، يَمْنَعْكُمُ الْفَقْرَ وَالْحَاجَةَ، أَلَا إِنَّ رَحَى الْإِسْلَامِ دَائِرَةٌ، فَدُورُوا مَعَ الْكِتَابِ حَيْثُ دَارَ، أَلَا إِنَّ الْكِتَابَ وَالسُّلْطَانَ سَيَفْتَرِقَانِ، فَلَا تُفَارِقُوا الْكِتَابَ، أَلَا إِنَّهُ سَيَكُونُ عَلَيْكُمْ أُمَرَاءُ يَقْضُونَ لِأَنْفُسِهِمْ مَا لَا يَقْضُونَ لَكُمْ، إِنْ عَصَيْتُمُوهُمْ قَتَلُوكُمْ، وَإِنْ أَطَعْتُمُوهُمْ أَضَلُّوكُمْ» قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، كَيْفَ نَصْنَعُ؟ قَالَ: «كَمَا صَنَعَ أَصْحَابُ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ، نُشِرُوا بِالْمَنَاشِيرَ، وَحُمِلُوا عَلَى الْخَشَبِ، مَوْتٌ فِي طَاعَةِ اللهِ خَيْرٌ مِنْ حَيَاةٍ فِي مَعْصِيَةِ اللهِ»…عمار کے واسطے سے، دونوں کہتے ہیں: ہمیں عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن یزید بن جابر نے بیان کیا، وہ وضین بن عطاء سے، وہ یزید بن مرثد سے، وہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، وہ بیان کرتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”عطیہ لو جب تک وہ عطیہ ہی رہے، لیکن جب وہ دین میں رشوت بن جائے تو اسے مت لو، اور تم اسے چھوڑنے والے بھی نہیں ہو، (کیونکہ) غربت اور ضرورت تمہیں روک دے گی، سن لو! اسلام کی چکی گھوم رہی ہے، تو تم کتاب کے ساتھ گھومو، جہاں وہ گھومے، سن لو! کتاب اور اقتدار عنقریب الگ ہو جائیں گے، تو تم کتاب سے الگ مت ہونا، سن لو! عنقریب تم پر ایسے حکمران ہوں گے جو اپنے لیے وہ فیصلے کریں گے جو تمہارے لیے نہیں کریں گے، اگر تم نے ان کی نافرمانی کی تو وہ تمہیں قتل کر دیں گے، اور اگر تم نے ان کی اطاعت کی تو وہ تمہیں گمراہ کر دیں گے“، صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم کیا کریں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جیسا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے ساتھیوں نے کیا، وہ آروں سے چیرے گئے، اور لکڑیوں (صلیبوں) پر اٹھائے گئے، اللہ کی اطاعت میں موت، اللہ کی نافرمانی میں زندگی سے بہتر ہے۔“