المعجم الكبير للطبراني
باب الميم— حرف میم سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
بريدة بن الحصيب الأسلمي، عن معاذ بن جبل باب: سیدنا بریدہ بن حصیب اسلمی رضی اللہ عنہ کی سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ، ثنا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ، ثنا عَبْدُ الْمُؤْمِنِ بْنُ خَالِدٍ الْحَنَفِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: بَلَغَنِي أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ، أَخَذَ الشَّيْطَانَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ: بَلَغَنِي أَنَّكَ أَخَذْتَ الشَّيْطَانَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: نَعَمْ، ضَمَّ إِلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَمْرَ الصَّدَقَةِ فَجَعَلْتُهُ فِي غُرْفَةٍ لِي، فَكُنْتُ أَجِدُ فِيهِ كُلَّ يَوْمٍ نُقْصَانًا، فَشَكَوْتُ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لِي: «هُوَ عَمِلُ الشَّيْطَانِ، فَارْصُدْهُ» فَرَصَدْتُهُ لَيْلًا، فَلَمَّا ذَهَبَ هَوِيٌّ مِنَ اللَّيْلِ أَقْبَلَ عَلَى صُورَةِ الْفِيلِ، فَلَمَّا انْتَهَى إِلَى الْبَابِ دَخَلَ مِنْ خَلَلِ الْبَابِ عَلَى غَيْرِ صُورَتِهِ، فَدَنَا مِنَ التَّمْرِ فَجَعَلَ يَلْتَقِمُهُ، فَشَدَدْتُ عَلِيَّ ثِيَابِي فَتَوَسَّطتُّهُ، فَقُلْتُ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ يَا عَدُوَّ اللهِ، وَثَبْتَ إِلَى تَمْرِ الصَّدَقَةِ فَأَخَذْتَهُ، وَكَانُوا أَحَقَّ بِهِ مِنْكَ، لَأَرْفَعَنَّكَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَفْضَحَكَ، فَعَاهَدَنِي أَنْ لَا يَعُودَ، فَغَدَوْتُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لِي: «مَا فَعَلَ أَسِيرُكَ؟» قُلْتُ: عَاهَدَنِي أَنْ لَا يَعُودَ، قَالَ: «إِنَّهُ عَائِدٌ فَارْصُدْهُ» فَرَصَدْتُهُ اللَّيْلَةَ الثَّانِيَةَ، فَصَنَعَ مِثْلَ ذَلِكَ وَصَنَعَتُ مِثْلَ ذَلِكَ، وَعَاهَدَنِي أَنْ لَا يَعُودَ فَخَلَّيْتُ سَبِيلَهُ، ثُمَّ غَدَوْتُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأُخْبِرَهُ فَإِذَا مُنَادِيهِ يُنَادِي: أَيْنَ مُعَاذٌ؟ فَقَالَ لِي: «يَا مُعَاذُ مَا فَعَلَ أَسِيرُكَ؟» فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: «إِنَّهُ عَائِدٌ فَارْصُدْهُ» فَرَصَدْتُهُ اللَّيْلَةَ الثَّالِثَةَ، فَصَنَعَ مِثْلَ ذَلِكَ وَصَنَعَتُ بِهِ مِثْلَ ذَلِكَ، وَقُلْتُ: يَا عَدُوَّ اللهِ عَاهَدْتَنِي مَرَّتَيْنِ، وَهَذِهِ الثَّالِثَةُ، لَأَرْفَعَنَّكَ إِلَى رَسُولِ اللهِ فَيَفْضَحَكَ، فَقَالَ: إِنِّي شَيْطَانٌ ذُو عِيَالٌ، وَمَا أَتَيْتُكَ إِلَّا مِنْ نَصِيبِينَ، وَلَوْ أَصَبْتُ شَيْئًا دُونَهُ مَا أَتَيْتُكَ، وَلَقَدْ كُنَّا فِي مَدِينَتِكُمْ هَذِهِ حَتَّى بُعِثَ صَاحِبُكُمْ، فَلَمَّا نَزَلَتْ عَلَيْهِ آيَتَانِ أَنْفَرَتَانَا مِنْهَا، فَوَقَعْنَا بِنَصِيبِينَ لَا تُقْرَآنِ فِي بَيْتٍ إِلَّا لَمْ يَلِجْ فِيهِ الشَّيْطَانُ ثَلَاثًا، فَإِنْ خَلَّيْتَ سَبِيلِي عَلَّمْتَكَهُمَا، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: آيَةُ الْكُرْسِيِّ، وَآخَرُ سُورَةِ الْبَقَرَةِ مِنْ قَوْلِهِ: {آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ} [البقرة: ٢٨٥] إِلَى آخِرِهَا، فَخَلَّيْتُ سَبِيلَهُ ثُمَّ غَدَوْتُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأُخْبِرَهُ، فَإِذَا مُنَادِيهِ يُنَادِي: أَيْنَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ؟ فَلَمَّا دَخَلْتُ عَلَيْهِ قَالَ لِي: «مَا فَعَلَ أَسِيرُكَ؟» فَقُلْتُ: عَاهَدَنِي أَنْ لَا يَعُودَ، فَأَخْبَرْتُهُ بِمَا قَالَ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «صَدَقَ الْخَبِيثُ وَهُوَ كَذُوبٌ» قَالَ: فَكُنْتُ اقْرَأُهُمَا عَلَيْهِ بَعْدَ ذَلِكَ فَلَا أَجِدُ فِيهِ نُقْصَانًا…رسول اللہ ﷺ نے صدقے کی کھجوریں میرے سپرد کیں تو میں نے انہیں اپنی ایک کوٹھڑی میں رکھ دیا، پھر میں روزانہ اس میں کمی محسوس کرنے لگا، تو میں نے اس کی شکایت رسول اللہ ﷺ سے کی، آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”یہ شیطان کا کام ہے، اس کی گھات لگاؤ۔“ چنانچہ میں نے رات کو اس کی گھات لگائی، تو جب رات کا کچھ حصہ گزر گیا تو وہ ہاتھی کی شکل میں آیا، جب دروازے تک پہنچا تو دروازے کی درز سے اپنی اصل شکل میں داخل ہوا، پھر کھجوروں کے قریب آیا اور انہیں نگلنے لگا، تو میں نے اپنا لباس مضبوطی سے پکڑا اور اسے بیچ سے جا لیا، اور کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں اور یہ کہ محمد اس کے بندے اور رسول ہیں، اے اللہ کے دشمن! تو صدقے کی کھجوروں پر جھپٹا اور انہیں لے لیا، حالانکہ وہ لوگ تجھ سے زیادہ اس کے حق دار تھے، میں تجھے رسول اللہ ﷺ کے پاس لے چلوں گا تاکہ وہ تجھے رسوا کریں، تو اس نے مجھ سے وعدہ کیا کہ دوبارہ نہیں آئے گا، میں صبح رسول اللہ ﷺ کے پاس گیا تو آپ ﷺ نے مجھ سے پوچھا: ”تیرے قیدی نے کیا کیا؟“ میں نے عرض کیا: اس نے مجھ سے وعدہ کیا کہ دوبارہ نہیں آئے گا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ ضرور دوبارہ آئے گا، اس کی گھات لگاؤ۔“ چنانچہ میں نے دوسری رات بھی اس کی گھات لگائی تو اس نے پہلے جیسا ہی کیا اور میں نے بھی پہلے جیسا ہی کیا، اس نے پھر وعدہ کیا کہ دوبارہ نہیں آئے گا تو میں نے اسے چھوڑ دیا، پھر صبح رسول اللہ ﷺ کو بتانے کے لیے حاضر ہوا تو دیکھا کہ آپ ﷺ کا منادی پکار رہا ہے: معاذ کہاں ہے؟ آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”اے معاذ! تیرے قیدی نے کیا کیا؟“ میں نے آپ کو خبر دی، آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ ضرور دوبارہ آئے گا، اس کی گھات لگاؤ۔“ چنانچہ میں نے تیسری رات بھی اس کی گھات لگائی تو اس نے پہلے جیسا ہی کیا اور میں نے بھی اسی طرح کیا، اور میں نے کہا: اے اللہ کے دشمن! تو نے مجھ سے دو بار وعدہ کیا (اور توڑا)، اور یہ تیسری بار ہے، میں تجھے ضرور رسول اللہ ﷺ کے پاس لے جاؤں گا تاکہ وہ تجھے رسوا کریں، تو اس نے کہا: میں ایک عیال دار شیطان ہوں، اور میں تیرے پاس سوائے نصیبین سے آنے کے نہیں آیا، اور اگر مجھے اس کے علاوہ کچھ اور مل جاتا تو میں تیرے پاس نہ آتا، اور ہم اس شہر میں اس وقت تک رہتے تھے جب تک تمہارے (نبی) صاحب مبعوث نہ ہوئے، تو جب ان پر دو آیتیں نازل ہوئیں تو انہوں نے ہمیں وہاں سے بھگا دیا، اور ہم نصیبین میں جا کر بس گئے، (وہ دو آیتیں) کسی گھر میں نہیں پڑھی جاتیں مگر شیطان تین دن تک اس میں داخل نہیں ہوتا، اگر تو مجھے چھوڑ دے تو میں تجھے وہ دونوں آیتیں سکھا دوں گا، میں نے کہا: ٹھیک ہے، اس نے کہا: آیت الکرسی، اور سورۃ البقرہ کے آخر میں ﴿آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ﴾ [البقرہ: 285] سے آخر تک، تو میں نے اسے چھوڑ دیا، پھر صبح رسول اللہ ﷺ کو بتانے کے لیے حاضر ہوا تو دیکھا کہ آپ ﷺ کا منادی پکار رہا ہے: معاذ بن جبل کہاں ہیں؟ جب میں آپ ﷺ کے پاس حاضر ہوا تو آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”تیرے قیدی نے کیا کیا؟“ میں نے عرض کیا: اس نے مجھ سے وعدہ کیا کہ دوبارہ نہیں آئے گا، پھر میں نے آپ کو وہ بات بتائی جو اس نے کہی تھی، تو رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”خبیث نے سچ کہا، حالانکہ وہ بڑا جھوٹا ہے۔“ راوی کہتے ہیں: میں اس کے بعد وہ دونوں آیتیں پڑھتا رہا تو مجھے اس میں کبھی کمی محسوس نہ ہوئی۔