حدیث نمبر: 17186
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ مُوسَى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، ثنا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، ثنا أَشْعَثُ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ، أُغْمِيَ عَلَيْهِ، فَجَعَلَتْ أُخْتُهُ تَقُولُ: وَاجَبَلَاهُ أَوْ كَلِمَةً أُخْرَى، فَلَمَّا أَفَاقَ قَالَ: «مَا زِلْتِ مُؤْذِيَةً لِي مُنْذُ الْيَوْمِ» قَالَتْ: لَقَدْ كَانَ يَعِزُّ عَلَيَّ أَنْ أُؤْذِيَكَ، قَالَ: " مَا زَالَ مَلَكٌ شَدِيدُ الِانْتِهَارِ كُلَّمَا قُلْتِ: وَاكَذَا قَالَ: أَكَذَلِكَ أَنْتَ؟ فَأَقُولُ لَا "
ترجمہ

حسن رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ پر بے ہوشی طاری ہوئی، تو ان کی بہن کہنے لگیں: ہائے جبل، یا اسی طرح کے دوسرے الفاظ، جب وہ ہوش میں آئے تو فرمایا: ”تم آج سے مجھے مسلسل تکلیف پہنچا رہی ہو۔“ انہوں نے کہا: مجھے تو یہ بہت گراں گزرتا کہ میں تمہیں تکلیف دوں۔ انہوں نے فرمایا: ایک سخت ڈانٹنے والا فرشتہ برابر میرے پاس رہا، جب بھی تم ”ہائے فلاں“ کہتیں تو وہ کہتا: کیا تم واقعی ایسے ہو؟ تو میں کہتا: نہیں۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الميم / حدیث: 17186
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 35، حدیث 50