المعجم الكبير للطبراني
باب الميم— حرف میم سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
ذكر مشاهد معاذ وسنه ووفاته ومن أخباره باب: سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کے غزوات، عمر، وفات اور دیگر احوال کا ذکر
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: كَانَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ شَابًّا جَمِيلًا سَمْحًا مِنْ خَيْرِ شَبَابِ قَوْمِهِ، لَا يُسْأَلُ شَيْئًا إِلَّا أَعْطَاهُ، حَتَّى ادَّانَ دَيْنًا أَغْلَقَ مَالَهُ، قَالَ: «فَكَلَّمَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُكَلِّمَ غُرَمَاءَهُ، فَفَعَلَ» فَلَمْ يَضَعُوا لَهُ شَيْئًا، فَلَوْ تُرِكَ لِأَحَدٍ بِكَلَامِ أَحَدٍ لَتُرِكَ لِمُعَاذٍ بِكَلَامِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، «فَدَعَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَبْرَحْ حَتَّى بَاعَ مَالَهُ وَقَسَّمَهُ بَيْنَ غُرَمَائِهِ» ، فَقَامَ مُعَاذُ لَا مَالَ لَهُ ، «فَلَمَّا حَجَّ بَعَثَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ لِيَجْبُرَهُ» قَالَ: وَكَانَ أَوَّلَ مَنْ تَجِرَ فِي هَذَا الْمَالِ مُعَاذٌ، فَقَدِمَ عَلَى أَبِي بَكْرٍ مِنَ الْيَمَنِ وَقَدْ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَابن کعب بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ایک خوبصورت، سخی نوجوان تھے، اپنی قوم کے بہترین نوجوانوں میں سے، ان سے جو بھی مانگا جاتا وہ دے دیتے، یہاں تک کہ انہوں نے اتنا قرض لے لیا کہ ان کا سارا مال اس میں پھنس گیا، راوی کہتے ہیں: تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے کہا کہ آپ ﷺ ان کے قرض خواہوں سے بات کریں، تو آپ ﷺ نے ایسا کیا، لیکن انہوں نے قرض میں سے کچھ بھی معاف نہ کیا۔ اگر کسی کی سفارش پر کسی کا قرض معاف کیا جاتا تو رسول اللہ ﷺ کی سفارش پر معاذ کا قرض ضرور معاف کر دیا جاتا۔ تو نبی کریم ﷺ نے انہیں بلایا اور معاملہ ختم نہ کیا یہاں تک کہ ان کا مال بیچ کر ان کے قرض خواہوں میں تقسیم کر دیا۔ چنانچہ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ اس حال میں کھڑے ہوئے کہ ان کے پاس کوئی مال نہیں تھا۔ راوی کہتے ہیں: پھر جب نبی کریم ﷺ نے حج کیا تو انہیں یمن کی طرف بھیجا تاکہ ان کا نقصان پورا ہو جائے۔ راوی کہتے ہیں: اور سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سب سے پہلے شخص تھے جنہوں نے اس مال سے تجارت کی، پھر وہ یمن سے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے جبکہ رسول اللہ ﷺ وفات پا چکے تھے۔