المعجم الكبير للطبراني
باب الميم— حرف میم سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عروة بن الزبير، عن المسور بن مخرمة باب: عروہ بن زبیر کی سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ مَرْثَدٍ الطَّبَرَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِيهِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَصْحَابِهِ فَقَالَ: " إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ بَعَثَنِي رَحْمَةً لِلنَّاسِ كَافَّةً، فَأَدُّوا عَنِّي يَرْحَمْكُمُ اللهُ، وَلَا تَخْتَلِفُوا كَمَا اخْتَلَفَ الْحَوَارِيُّونَ عَلَى عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَإِنَّهُ دَعَاهُمْ إِلَى مِثْلِ مَا أَدْعُوكُمْ إِلَيْهِ، فَأَمَّا مَنْ قَرُبَ مَكَانُهُ فَإِنَّهُ أَجَابَ وَأَسْلَمَ، وَأَمَّا مَنْ بَعُدَ مَكَانُهُ فَكَرِهَهُ، فَشَكَا عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ ذَلِكَ إِلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ فَأَصْبَحُوا وَكُلُّ رَجُلٍ مِنْهُمْ يَتَكَلَّمُ بِلِسَانِ الْقَوْمِ الَّذِينَ وُجِّهَ إِلَيْهِمْ، فَقَالَ لَهُمْ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ: هَذَا أَمَرٌ قَدْ عَزَمَ اللهُ لَكُمْ عَلَيْهِ، فَامْضُوا فَافْعَلُوا " فَقَالَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَحْنُ يَا رَسُولَ اللهِ نُؤَدِّي عَنْكَ، فابْعَثْنَا حَيْثُ شِئْتَ، فَبَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدَ اللهِ بْنَ حُذَافَةَ إِلَى كِسْرَى، وَبَعَثَ سَلِيطَ بْنَ عَمْرٍو إِلَى هَوْذَةَ بْنِ عَلِيٍّ صَاحِبِ الْيَمَامَةِ، وَبَعَثَ الْعَلَاءَ بْنَ الْحَضْرَمِيِّ إِلَى الْمُنْذِرِ بْنِ سَاوَى صَاحِبِ هَجَرَ، وَبَعَثَ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ إِلَى جَيْفَرَ، وَعَبَّادِ ابْنِي جَلَنْدَا مَلِكَيْ عُمَانَ، وَبَعَثَ دِحْيَةَ الْكَلْبِيَّ إِلَى قَيْصَرَ، وَبَعَثَ شُجَاعَ بْنَ وَهْبٍ الْأَسَدِيَّ إِلَى الْمُنْذِرِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ أَبِي شِمْرٍ الْغَسَّانِيِّ، وَبَعَثَ عَمْرَو بْنَ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيَّ إِلَى النَّجَاشِيِّ فَرَجَعُوا جَمِيعًا قَبْلَ وَفَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرَ الْعَلَاءِ بْنِ الْحَضْرَمِيِّ، فَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُوُفِّيَ وَهُوَ بِالْبَحْرَيْنِسیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ اپنے صحابہ کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: ”اللہ عزوجل نے مجھے تمام لوگوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے، تو تم میری طرف سے یہ پیغام پہنچاؤ، اللہ تم پر رحم فرمائے، اور تم اختلاف نہ کرنا جیسا کہ حواریوں نے عیسیٰ علیہ السلام کے معاملے میں اختلاف کیا تھا، حالانکہ انہوں نے انہیں اسی چیز کی طرف بلایا تھا جس کی طرف میں تمہیں بلا رہا ہوں۔ جن کا مقام قریب تھا انہوں نے قبول کیا اور مان لیا، اور جن کا مقام دور تھا انہوں نے اسے ناپسند کیا، تو عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نے یہ بات اللہ عزوجل سے شکایتاً عرض کی، تو صبح ہوئی اور ان میں سے ہر شخص اس قوم کی زبان بولنے لگا جن کی طرف اسے بھیجا گیا تھا۔ تو عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نے ان سے فرمایا: یہ ایک ایسا کام ہے جو اللہ نے تمہارے لیے مقرر کر دیا ہے، تو جاؤ اور یہی کرو۔“ تو رسول اللہ ﷺ کے صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم آپ کی طرف سے یہ پیغام پہنچائیں گے، پس آپ جہاں چاہیں ہمیں بھیج دیں۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے سیدنا عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ کو کسریٰ کی طرف بھیجا، اور سلیط بن عمرو رضی اللہ عنہ کو یمامہ کے حاکم ہوذہ بن علی کی طرف بھیجا، اور علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ کو ہجر کے حاکم منذر بن ساویٰ کی طرف بھیجا، اور سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو عمان کے دونوں بادشاہوں جیفر اور عباد بن جلندیٰ کی طرف بھیجا، اور سیدنا دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کو قیصر کی طرف بھیجا، اور شجاع بن وہب اسدی رضی اللہ عنہ کو غسانی منذر بن حارث بن ابی شمر کی طرف بھیجا، اور عمرو بن امیہ ضمری رضی اللہ عنہ کو نجاشی کی طرف بھیجا۔ یہ سب رسول اللہ ﷺ کی وفات سے پہلے واپس آ گئے سوائے علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ کے، کیونکہ رسول اللہ ﷺ کی وفات کے وقت وہ بحرین میں تھے۔