❮
❯
حدیث نمبر: 1714
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ الرَّجَّانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ الْبَحْرَانِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، ثنا مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ شَيْخٍ مِنْ أَسْلَمَ، عَنْ جُنْدُبِ بْنِ نَاجِيَةَ، أَوْ نَاجِيَةِ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ: لَمَّا كُنَّا بِالْغَمِيمِ لَقِيَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَبَرٌ مِنْ قُرَيْشٍ أَنَّهَا بَعَثَتْ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ فِي جَرِيدَةِ خَيْلٍ يَتَلَقَّى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَرِهَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنْ يَلْقَاهُ وَكَانَ بِهِمْ رَحِيمًا، فَقَالَ: «مَنْ رَجُلٌ يَعْدِلُ لَنَا عَنِ الطَّرِيقِ؟» فَقُلْتُ: أَنَا بِأَبِي أَنْتَ، فَأَخَذَهُمْ فِي طَرِيقٍ قَدْ كَانَ بِهَا جَرِبًا فَدَافِدُ وعُقَابٌ فَاسْتَوَتْ بِنَا الْأَرْضُ حَتَّى أَنْزَلَهُ عَلَى الْحُدَيْبِيَةِ وَهِيَ نَزَحٌ فَأَكْفَأَ فِيهَا سَهْمًا أَوْ سَهْمَهُ مِنْ كِنَانَتِهِ، ثُمَّ بَصَقَ فِيهَا ثُمَّ دَعَا فَغَارَتْ عُيُونُهَا حَتَّى إِنِّي لَأَقُولُ أَوْ نَقُولُ لَوْ شِئْنَا لَاغْتَرَفْنَا بِأَيْدِينَا
ترجمہ

سیدنا جندب بن ناجیہ (یا ناجیہ بن جندب) رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب ہم غمیم کے مقام پر تھے تو رسول اللہ ﷺ کو قریش کی طرف سے یہ خبر ملی کہ انہوں نے خالد بن ولید کو سواروں کے ایک تیز رفتار دستے میں رسول اللہ ﷺ کا سامنا کرنے کے لیے بھیجا ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے ملنا ناپسند فرمایا کیونکہ آپ ﷺ ان پر مہربان تھے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کون آدمی ہے جو ہمیں راستے سے ہٹا کر لے جائے؟“ میں نے کہا: میں ہوں، میرے باپ آپ پر قربان ہوں۔ تو میں انہیں ایک ایسے راستے سے لے گیا جہاں کھردری زمین، گڑھے اور اونچی جگہیں تھیں، تو زمین ہموار ہوگئی یہاں تک کہ آپ ﷺ کو حدیبیہ میں اتارا، اور وہاں کا پانی بہت کم تھا، تو آپ ﷺ نے اپنی ترکش سے ایک تیر - یا اپنا تیر - اس میں الٹ دیا، پھر اس میں تھوکا، پھر دعا فرمائی، تو اس کے چشمے ابل پڑے یہاں تک کہ میں کہتا ہوں - یا ہم کہتے ہیں - کہ اگر ہم چاہتے تو اپنے ہاتھوں سے پانی نکال سکتے تھے۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الجيم / حدیث: 1714
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 179، حدیث 1727