حدیث نمبر: 17063
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ نَجْدَةَ الْحَوْطِيُّ، ثنا عُتْبَةُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الرَّخْصِ الْحِمْصِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الْهُذَلِيِّ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ مَا حَقُّ جَارِي عَلَيَّ؟، قَالَ: «إِنْ مَرِضَ عُدْتَهُ، وَإِنْ مَاتَ شَيَّعْتَهُ، وَإِنِ اسْتَقْرَضَكَ أَقْرَضْتَهُ، وَإِنْ أَعْوَزَ سَتَرْتَهُ، وَإِنْ أَصَابَهُ خَيْرٌ هَنَّأْتَهُ، وَإِنْ أَصَابَتْهُ مُصِيبَةٌ عَزَّيْتَهُ، وَلَا تَرْفَعْ بِنَاءَكَ فَوْقَ بِنَائِهِ فَتَسُدَّ عَلَيْهِ الرِّيحَ، وَلَا تُؤْذِهِ بِرِيحِ قِدْرِكَ إِلَّا أَنْ تَغْرِفَ لَهُ مِنْهَا»
ترجمہ

سیدنا معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے پڑوسی کا مجھ پر کیا حق ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر وہ بیمار ہو تو اس کی عیادت کرو، اگر وہ فوت ہو جائے تو اس کے جنازے میں شریک ہو، اگر وہ تم سے قرض مانگے تو اسے قرض دو، اگر وہ تنگدست ہو جائے تو اس کی پردہ پوشی کرو، اگر اسے کوئی خوشی حاصل ہو تو اسے مبارکباد دو، اگر اسے کوئی مصیبت پہنچے تو اس سے تعزیت کرو، اور اپنی عمارت اس کی عمارت سے اونچی نہ بناؤ کہ اس پر ہوا رک جائے، اور اپنی ہانڈی کی خوشبو سے اسے تکلیف نہ دو، سوائے اس کے کہ تم اس میں سے کچھ نکال کر اسے بھی دے دو۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الميم / حدیث: 17063
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 419، حدیث 1014