حدیث نمبر: 1706
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو غَسَّانَ مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا عُمَرُ بْنُ زِيَادٍ الْأَلْهَانِيُّ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ جُنْدُبٍ، قَالَ: أَصَابَتْ إِصْبَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَجَرَةٌ فَدُمِيَتْ، فَقَالَ: «هَلْ هِيَ إِلَّا إِصْبَعٌ دُمِيتِ وَفِي سَبِيلِ اللهِ مَا لَقِيَتْ» فَحُمِلَ فَوُضِعَ عَلَى سَرِيرٍ مَرْمُولٍ بِخُوصٍ أَوْ شَرِيطٍ وَوُضِعَ تَحْتَ رَأْسِهِ مِرْفَقَهُ مِنْ أَدَمٍ حَشْوُهَا لِيفٌ فَأَثَّرَ الشَّرِيطُ فِي جَنْبِهِ فَجَاءَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَبَكَى، فَقَالَ: «مَا يُبْكِيكَ؟» فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ كِسْرَى وَقَيْصَرُ يَجْلِسُونَ عَلَى سَرِيرِ الذَّهَبِ وَيَلْبَسُونَ الدِّيبَاجَ وَالْإِسْتَبْرَقَ قَالَ: «أَمَا تَرْضَوْنَ أَنَّ لَهُمُ الدُّنْيَا وَلَكُمُ الْآخِرَةَ»
ترجمہ

اسود بن قیس بیان کرتے ہیں کہ سیدنا جندب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نبی کریم ﷺ کی انگلی کو ایک درخت لگا تو وہ زخمی ہوکر خون آلود ہوگئی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ تو بس ایک زخمی انگلی ہی ہے، اور اللہ کی راہ میں جو کچھ اسے پیش آیا“، تو آپ ﷺ کو اٹھا کر کھجور کے پتوں یا بید سے بنی ہوئی ایک چارپائی پر لٹایا گیا، اور آپ ﷺ کے سر کے نیچے چمڑے کا ایک تکیہ رکھا گیا جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی، تو اس بنائی کے نشان آپ ﷺ کے پہلو میں پڑ گئے، تو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ آئے اور رو پڑے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہیں کیا رلا رہا ہے؟“ تو انہوں نے کہا: یا رسول اللہ، کسریٰ اور قیصر سونے کی چارپائیوں پر بیٹھتے اور ریشم اور دیبا پہنتے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم اس پر راضی نہیں کہ دنیا انہی کے لیے ہو اور آخرت تمہارے لیے؟“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الجيم / حدیث: 1706
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 175، حدیث 1719