المعجم الكبير للطبراني
باب الميم— حرف میم سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عطاء بن يسار، عن معاوية بن الحكم باب: عطاء بن یسار کی سیدنا معاویہ بن حکم رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا أَبِي، ح وَحَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، قَالَا: ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ الْحَجَّاجِ الصَّوَّافِ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ السُّلَمِيِّ، قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَعَطَسَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ، فَقُلْتُ: يَرْحَمُكَ اللهُ، فَرَمَانِي الْقَوْمُ بِأَبْصَارِهِمْ، فَقُلْتُ: وَاثُكْلَ أُمَّيَاهُ مَا شَأْنُكُمْ تَنْظُرُونَ إِلَيَّ؟، فَجَعَلُوا يَضْرِبُونَ بِأَيْدِيهِمْ عَلَى أَفْخَاذِهِمْ، فَعَرَفْتُ أَنَّهُمْ يُصَمِّتُونِي، لَكِنِّي سَكَتُّ، فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِأَبِي هُوَ وَأُمِّي، مَا ضَرَبَنِي وَمَا كَهَرَنِي وَلَا سَبَّنِي، ثُمَّ قَالَ: «إِنَّ هَذِهِ الصَّلَاةَ لَا يَحِلُّ فِيهَا شَيْءٌ مِنْ كَلَامِ النَّاسِ هَذَا، إِنَّمَا هُوَ التَّسْبِيحُ وَالتَّكْبِيرُ وَقِرَاءَةُ الْقُرْآنِ» ، أَوْ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَسیدنا معاویہ بن حکم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی، تو لوگوں میں سے ایک شخص کو چھینک آئی، تو میں نے کہا: یرحمک اللہ (اللہ تم پر رحم کرے)۔ اس پر لوگوں نے مجھے گھور کر دیکھا، تو میں نے کہا: میری ماں مجھ پر روئے! تمہیں کیا ہوا کہ مجھے دیکھ رہے ہو؟ تو وہ اپنے ہاتھوں سے اپنی رانوں پر مارنے لگے، تو میں سمجھ گیا کہ وہ مجھے خاموش کرا رہے ہیں، لیکن میں خاموش ہو گیا، پھر جب رسول اللہ ﷺ نے نماز مکمل کی - میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں - آپ ﷺ نے نہ مجھے مارا، نہ ڈانٹا اور نہ برا بھلا کہا، بلکہ فرمایا: ”اس نماز میں لوگوں کی اس طرح کی گفتگو میں سے کچھ بھی جائز نہیں، یہ تو صرف تسبیح، تکبیر اور قرآن کی قراءت ہے“، یا جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔