❮
❯
حدیث نمبر: 16994
حَدَّثَنَا أَبُو شُعَيْبٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرَّانِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَابْلُتِّيُّ، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، ثنا هِلَالُ بْنُ أَبِي مَيْمُونَةَ، حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ يَسَارٍ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ الْحَكَمِ السُّلَمِيُّ، قَالَ: بَيْنَمَا أَنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذْ عَطَسَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ، فَقُلْتُ: يَرْحَمُكَ اللهُ، فَحَدَّقَنِي الْقَوْمُ بِأَبْصَارِهِمْ، قُلْتُ: وَاثُكْلَ أُمَّاهُ مَا لَكُمْ تَنْظُرُونَ إِلَيَّ؟، قَالَ: فَضَرَبَ الْقَوْمُ بِأَيْدِيهِمْ عَلَى أَفْخَاذِهِمْ، فَلَمَّا رَأَيْتُهُمْ يُسَكِّتُونِي لَكِنِّي سَكَتُّ، فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِأَبِي هُوَ وَأُمِّي مَا رَأَيْتُ مُعَلِّمًا قَبْلَهُ وَلَا بَعْدَهُ أَحْسَنَ تَعْلِيمًا مِنْهُ، وَاللهِ مَا ضَرَبَنِي وَلَا كَهَرَنِي، وَلَا سَبَّنِي، وَلَكِنْ قَالَ: «إِنَّ صَلَاتَنَا هَذِهِ لَا يَصْلُحُ فِيهَا شَيْءٌ مِنْ كَلَامِ النَّاسِ، وَإِنَّمَا هِيَ التَّسْبِيحُ وَالتَّكْبِيرُ وَتِلَاوَةُ الْقُرْآنِ» .
ترجمہ

سیدنا معاویہ بن حکم سلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ (نماز میں) تھا کہ اتنے میں لوگوں میں سے ایک آدمی کو چھینک آئی، تو میں نے کہا: یَرْحَمُکَ اللہ، اس پر لوگوں نے مجھے گھور کر دیکھنا شروع کر دیا۔ میں نے کہا: ہائے میری ماں کا غم! تم مجھے کیوں دیکھ رہے ہو؟ راوی کہتے ہیں: لوگ اپنے ہاتھ اپنی رانوں پر مارنے لگے، جب میں نے دیکھا کہ وہ مجھے خاموش کرا رہے ہیں تو میں خاموش ہو گیا۔ پھر جب رسول اللہ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے - میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں - میں نے آپ ﷺ سے پہلے یا بعد میں کوئی معلم آپ سے بہتر تعلیم دینے والا نہیں دیکھا، اللہ کی قسم! آپ ﷺ نے نہ مجھے مارا، نہ ڈانٹا اور نہ برا بھلا کہا، بلکہ فرمایا: ”ہماری یہ نماز ایسی ہے کہ اس میں لوگوں کی گفتگو میں سے کچھ بھی درست نہیں، یہ تو صرف تسبیح، تکبیر اور قرآن کی تلاوت ہے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الميم / حدیث: 16994
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 401، حدیث 945