حدیث نمبر: 16993
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عَمْرٍو الصَّبَّاحُ الرَّقِّيُّ، ثنا أَبُو مَعْمَرٍ الْمُقْعَدُ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي هِلَالُ بْنُ أَبِي مَيْمُونَةَ، حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ يَسَارٍ، أَنَّ مُعَاوِيَةَ بْنَ الْحَكَمِ السُّلَمِيَّ، حَدَّثَهُ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّا قَوْمٌ حَدِيثُ عَهْدٍ بِالْجَاهِلِيَّةِ، وَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ جَاءَ بِالْإِسْلَامِ، وَإِنَّ رِجَالًا مِنَّا يَخُطُّونَ، فَقَالَ: «قَدْ كَانَ نَبِيٌّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ يَخُطُّ، فَمَنْ وَافَقَ خَطَّهُ فَذَاكَ» ، قَالَ: وَإِنَّ مِنَّا رِجَالًا يَتَطَيَّرُونَ، قَالَ: «ذَاكَ شَيْءٌ يَجِدُونَهُ فِي صُدُورِهِمْ، وَلَكِنْ لَا يَضُرُّهُمْ» ، قُلْتُ: وَمِنَّا رِجَالٌ يَأْتُونَ الْكُهَّانَ، قَالَ: «فَلَا تَأْتُوهُمْ»
ترجمہ

سیدنا معاویہ بن حکم سلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم ابھی نئے نئے جاہلیت سے نکلے تھے، اور اللہ عزوجل اسلام لے کر آیا، اور ہم میں سے کچھ لوگ لکیریں کھینچتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”انبیاء میں سے ایک نبی لکیر کھینچا کرتے تھے، تو جو اس کی لکیر کے موافق ہو جائے تو ٹھیک ہے۔“ میں نے عرض کیا: اور ہم میں سے کچھ لوگ بدشگونی لیتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ ایک ایسی چیز ہے جو وہ اپنے سینوں میں محسوس کرتے ہیں، لیکن یہ انہیں نقصان نہیں پہنچاتی۔“ میں نے عرض کیا: اور ہم میں سے کچھ لوگ کاہنوں کے پاس جاتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو ان کے پاس مت جاؤ۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الميم / حدیث: 16993
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 400، حدیث 944