المعجم الكبير للطبراني
باب الميم— حرف میم سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
أبو عامر الهوزني عبد الله بن لحي، عن معاوية باب: ابوعامر ہوزنی، عبداللہ بن لحی، کی سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ نَجْدَةَ الْحَوْطِيُّ، ثنا أَبُو الْمُغِيرَةِ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو زَيْدٍ الْحَوْطِيُّ، ثنا أَبُو الْيَمَانِ الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ، قَالَا: ثنا صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَزْهَرَ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِي عَامِرٍ الْهَوْزَنِيِّ عَبْدِ اللهِ بْنِ لُحَيٍّ، قَالَ: حَجَجْنَا مَعَ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، فَلَمَّا قَدِمْنَا مَكَّةَ أُخْبِرَ بِقَاصٍّ يَقُصُّ عَلَى أَهْلِ مَكَّةَ، مَوْلًى لِبَنِي مَخْزُومَ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ مُعَاوِيَةُ، فَقَالَ: أُمِرْتَ بِهَذَا الْقَصَصِ؟، قَالَ: لَا، قَالَ: فَمَا حَمَلَكَ عَلَى أَنْ تَقُصَّ بِغَيْرِ إِذْنٍ؟، قَالَ: نَنْشُرُ عِلْمًا عَلَّمْنَاهُ اللهُ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: لَوْ كُنْتُ تَقَدَّمْتُ إِلَيْكَ قَبْلَ مُدَّتِي هَذِهِ لَقَطَعْتُ مِنْكَ طَائِفًا، ثُمَّ قَامَ حَتَّى صَلَّى الظُّهْرَ بِمَكَّةَ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ أَهْلَ الْكِتَابِ افْتَرَقُوا عَلَى ثِنْتَيْنِ وَسَبْعِينَ مِلَّةً، وَإِنَّ هَذِهِ الْأُمَّةَ سَتَفْتَرُقُ عَلَى ثَلَاثٍ وَسَبْعِينَ مِلَّةً، يَعْنِي الْأَهْوَاءَ، وَكُلُّهَا فِي النَّارِ إِلَّا وَاحِدَةً وَهِيَ الْجَمَاعَةُ» ، وَقَالَ: «إِنَّهُ سَيَخْرُجُ مِنْ أُمَّتِي أَقْوَامٌ تَتَجَارَى بِهِمُ الْأَهْوَاءُ كَمَا يَتَجَارَى الْكَلْبُ بِصَاحِبِهِ، فَلَا يَبْقَى مِنْهُ عِرْقٌ وَلَا مَفْصِلٌ إِلَّا دَخَلَهُ» ، وَاللهِ يَا مَعْشَرَ الْعَرَبِ لَئِنْ لَمْ تَقُومُوا بِمَا جَاءَ بِهِ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَغَيْرُكُمْ مِنَ النَّاسِ أَحْرَى أَنْ لَا يَقُومَ بِهِسیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر میں اپنی اس مدت سے پہلے تمہاری طرف متوجہ ہوتا تو تمہارا ایک حصہ کاٹ ڈالتا۔ پھر وہ کھڑے ہوئے یہاں تک کہ مکہ میں ظہر کی نماز پڑھائی، پھر فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اہل کتاب بہتر (72) فرقوں میں بٹ گئے، اور یہ امت تہتر (73) فرقوں میں بٹے گی“، یعنی خواہشات کی بنا پر، ”اور یہ سب جہنم میں جائیں گے سوائے ایک کے، اور وہ جماعت ہے۔“ اور فرمایا: ”بے شک میری امت میں سے کچھ لوگ نکلیں گے جن میں خواہشات اس طرح دوڑیں گی جیسے کتے میں باؤلاپن دوڑتا ہے، یہاں تک کہ کوئی رگ یا جوڑ ایسا نہیں رہے گا جس میں یہ داخل نہ ہو جائے۔“ اللہ کی قسم اے عرب کے لوگو! اگر تم اس دین پر قائم نہ رہے جسے لے کر محمد ﷺ آئے تو تمہارے علاوہ لوگوں کا اس پر قائم نہ رہنا زیادہ یقینی ہے۔