المعجم الكبير للطبراني
باب الميم— حرف میم سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
أبو أمامة بن سهل بن حنيف، عن معاوية رضي الله عنه باب: ابوامامہ بن سہل بن حنیف کی سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ مُسَاوِرٍ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا عَفَّانُ، ح وَحَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ النَّشِيطِيُّ، قَالَا: ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ، قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ مُعَاوِيَةَ عَلَى عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ فَقَالَتْ: يَا مُعَاوِيَةُ قَتَلْتَ حَجَرًا وَأَصْحَابَهُ، وَفَعَلْتَ الَّذِي فَعَلْتَ، أَمَا خَشِيتَ أَنْ أُخَبِّئَ لَكَ رَجُلًا فَيَقْتُلَكَ بِمُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ؟، قَالَ: لَا، إِنِّي فِي بَيْتٍ آمَنٍ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «الْإِيمَانُ قَيَّدَ الْفَتْكَ، لَا يَفْتِكُ مُؤْمِنٌ» ، يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ كَيْفَ أَنَا فِي حَاجَاتِكِ وَرُسُلِكِ وَأَمْرِكِ؟، قَالَتْ: صَالِحٌ، قَالَ: فَدَعِينِي وَحَجَرًا حَتَّى نَلْتَقِيَ عِنْدَ اللهِسعید بن مسیب رحمہ اللہ مروان بن حکم سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا، تو انہوں نے کہا: اے معاویہ! تم نے حجر اور ان کے ساتھیوں کو قتل کیا، اور تم نے وہ کچھ کیا جو کیا، کیا تمہیں یہ خوف نہ ہوا کہ میں تمہارے لیے کسی آدمی کو چھپا کر بھیج دوں جو محمد بن ابی بکر کے بدلے تمہیں قتل کر دے؟ انہوں نے کہا: نہیں، کیونکہ میں ایک محفوظ گھر میں ہوں، میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے: ”ایمان نے دھوکے سے قتل کرنے کو باندھ دیا ہے، کوئی مومن دھوکے سے قتل نہیں کرتا۔“ اے ام المومنین! میں آپ کی ضروریات، آپ کے قاصدوں اور آپ کے معاملے میں کیسا ہوں؟ انہوں نے کہا: اچھے ہو۔ انہوں نے کہا: تو مجھے اور حجر کو چھوڑ دیں یہاں تک کہ ہم اللہ کے حضور ملیں۔