حدیث نمبر: 16772
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ مُسَاوِرٍ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا عَفَّانُ، ح وَحَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ النَّشِيطِيُّ، قَالَا: ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ، قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ مُعَاوِيَةَ عَلَى عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ فَقَالَتْ: يَا مُعَاوِيَةُ قَتَلْتَ حَجَرًا وَأَصْحَابَهُ، وَفَعَلْتَ الَّذِي فَعَلْتَ، أَمَا خَشِيتَ أَنْ أُخَبِّئَ لَكَ رَجُلًا فَيَقْتُلَكَ بِمُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ؟، قَالَ: لَا، إِنِّي فِي بَيْتٍ آمَنٍ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «الْإِيمَانُ قَيَّدَ الْفَتْكَ، لَا يَفْتِكُ مُؤْمِنٌ» ، يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ كَيْفَ أَنَا فِي حَاجَاتِكِ وَرُسُلِكِ وَأَمْرِكِ؟، قَالَتْ: صَالِحٌ، قَالَ: فَدَعِينِي وَحَجَرًا حَتَّى نَلْتَقِيَ عِنْدَ اللهِ
ترجمہ

…اور تم نے وہ کچھ کیا جو کیا، کیا تمہیں یہ خوف نہ ہوا کہ میں تمہارے لیے کسی آدمی کو چھپا کر بھیج دوں جو محمد بن ابی بکر کے بدلے تمہیں قتل کر دے؟ انہوں نے کہا: نہیں، کیونکہ میں ایک محفوظ گھر میں ہوں، میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے: ”ایمان قتل و غارت کو مقید کر دیتا ہے، کوئی مومن اچانک قتل نہیں کرتا۔“ اے ام المومنین! میں آپ کی ضروریات، آپ کے قاصدوں اور آپ کے معاملے میں کیسا ہوں؟ انہوں نے کہا: اچھے ہو۔ انہوں نے کہا: تو مجھے اور حجر کو چھوڑ دیں یہاں تک کہ ہم اللہ کے حضور ملیں۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الميم / حدیث: 16772
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 319، حدیث 723