المعجم الكبير للطبراني
باب الجيم— حرف جیم سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
صفوان بن محرز المازني، عن جندب باب: صفوان بن محرز مازنی کی سیدنا جندب رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُعَافَى بْنِ سُلَيْمَانَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْبَرَاءِ، قَالَا: ثنا الْمُعَافَى بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ، عَنْ جُنْدُبِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، أَنَّهُ مَرَّ بِقَوْمٍ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ، فَقَالَ: لَا يَغُرَّنَّكَ هَؤُلَاءِ إِنَّهُمْ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ الْيَوْمَ ويَتَجَالَدُونَ بِالسُّيُوفِ غَدًا، ثُمَّ قَالَ: ائْتِنِي بِنَفَرٍ مِنْ قُرَّاءِ الْقُرْآنِ ولْيَكُونوا شُيُوخًا فَأَتَيْتُهُ بِنَافِعِ بْنِ الْأَزْرَقِ وأَتَيْتُهُ بِمِرْدَاسٍ أَبِي بِلَالٍ، وَبِنَفَرٍ مَعَهُمَا سِتَّةٍ أَوْ ثَمَانِيَةٍ، فَلَمَّا أَنْ دَخَلْنَا عَلَى جُنْدُبٍ، قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَثَلُ مَنْ يُعَلِّمُ النَّاسَ الْخَيْرَ ويَنْسَى نَفْسَهُ كَمَثَلِ الْمِصْبَاحِ الَّذِي يُضِيءُ لِلنَّاسِ وَيَحْرِقُ نَفْسَهُ، وَمَنْ رَاءَى النَّاسَ بِعِلْمِهِ رَاءَى اللهُ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَمَنْ سَمَّعَ النَّاسَ بِعَمَلِهِ سَمَّعَ اللهُ بِهِ»
«فَاعْلَمُوا أَنَّهُ أَوَّلُ مَا يُنْتِنُ مِنْ أَحَدِكُمْ إِذَا مَاتَ بَطْنُهُ، فَلَا يُدْخِلْ بَطْنَهُ إِلَّا طَيِّبًا، وَمَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ لَا يَحُولَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجَنَّةِ مِلْءُ كَفٍّ مِنْ دَمٍ فَلْيَفْعَلْ»صفوان بن محرز مازنی بیان کرتے ہیں: ...اور کچھ چھ یا آٹھ افراد کے ہمراہ، تو جب ہم جندب رضی اللہ عنہ کے پاس گئے، تو انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”جو لوگوں کو بھلائی سکھاتا ہے اور خود کو بھول جاتا ہے، اس کی مثال اس چراغ کی طرح ہے جو لوگوں کو روشنی دیتا ہے اور خود کو جلاتا ہے، اور جو اپنے علم سے لوگوں کو دکھاوا کرے، اللہ قیامت کے دن اس کا دکھاوا ظاہر کرے گا، اور جو اپنے عمل کا لوگوں میں شہرہ کرے، اللہ اس کی رسوائی کا شہرہ کرے گا۔“
”اور جان لو کہ جب تم میں سے کوئی مرتا ہے تو سب سے پہلے اس کا پیٹ ہی بدبودار ہوتا ہے، لہٰذا اپنے پیٹ میں پاکیزہ چیز کے سوا کچھ داخل نہ کرو، اور تم میں سے جو یہ استطاعت رکھتا ہو کہ ایک چلو خون بھی اس کے اور جنت کے درمیان حائل نہ ہو تو ایسا کرے۔“