❮
❯
حدیث نمبر: 16713
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سِنَانٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثنا يَحْيَى عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي قَزَعَةَ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ لِأَخِيهِ مَالِكِ بْنِ حَيْدَةَ: انْطَلِقْ بِنَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِنَّهُ يَعْرِفُكَ وَلَا يَعْرِفُنِي، فَقَدْ حَبَسَ نَاسًا مِنْ بَنِي بَهْدَمَ جِيرَانِي، فَأَتَيَاهُ فَقَالَ مَالِكُ بْنُ حَيْدَةَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي قَدْ أَسْلَمْتُ وَأَسْلَمَ جِيرَانِي، فَخَلِّ عَنْهُمْ، فَلَمْ يُجِبْهُ، ثُمَّ أَعَادَ عَلَيْهِ فَلَمْ يُجِبْهُ، ثُمَّ أَعَادَ عَلَيْهِ فَلَمْ يُجِبْهُ، فَقَامَ مُتَمَقِّطًا، فَقَالَ: لَئِنْ فَعَلْتَ ذَاكَ، إِنَّهُمْ يَزْعُمُونَ أَنَّكَ تَدْعُو إِلَى الْأَمْرِ وَتُخَالِفُ إِلَى غَيْرِهِ، فَجَعَلْتُ أَزْجُرُهُ وَأَنْهَاهُ، فَقَالَ: «مَا يَقُولُ؟» ، قَالُوا: إِنَّهُ يَقُولُ كَذَا وَكَذَا، فَقَالَ: «إِنْ فَعَلْتَ ذَلِكَ، إِنَّ ذَاكَ عَلِيَّ مَا عَلَيْهِمْ مِنْهُ، دَعْ لَهُ جِيرَانَهُ»
ترجمہ

حکیم بن معاویہ رحمہ اللہ اپنے والد سیدنا معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنے بھائی سیدنا مالک بن حیدہ رضی اللہ عنہ سے کہا: چلو ہمیں نبی کریم ﷺ کے پاس لے چلو، کیونکہ آپ ﷺ تمہیں پہچانتے ہیں مجھے نہیں پہچانتے، اور آپ ﷺ نے بنو بہدم کے کچھ لوگوں کو، جو میرے پڑوسی ہیں، روک رکھا ہے۔ چنانچہ وہ دونوں آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو مالک بن حیدہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں اسلام لا چکا ہوں اور میرے پڑوسی بھی اسلام لا چکے ہیں، تو انہیں چھوڑ دیجیے۔ آپ ﷺ نے انہیں جواب نہ دیا، پھر انہوں نے بات دہرائی مگر آپ ﷺ نے جواب نہ دیا، پھر انہوں نے دوبارہ بات دہرائی مگر آپ ﷺ نے جواب نہ دیا، تو وہ غصے سے کھڑے ہو گئے اور کہا: اگر آپ نے یہ کیا تو لوگ یہ سمجھیں گے کہ آپ ایک بات کی دعوت دیتے ہیں اور خود اس کے خلاف کرتے ہیں، تو میں انہیں ڈانٹنے اور روکنے لگا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ کیا کہہ رہا ہے؟“ لوگوں نے کہا: یہ ایسا ایسا کہہ رہا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر ایسا کیا گیا ہو تو اس کا بوجھ مجھ پر ہے، ان پر اس میں سے کچھ نہیں، اس کے پڑوسیوں کو چھوڑ دو۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الميم / حدیث: 16713
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 298، حدیث 664