المعجم الكبير للطبراني
باب الميم— حرف میم سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
مالك بن عمير السلمي باب: سیدنا مالک بن عمیر سلمی رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ الْوَزِيرُ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ الْجَوَازُ الْمَكِّيُّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ، ثنا أَبُو صَخْرٍ، وَاصِلُ بْنُ يَزِيدَ السُّلَمِيُّ، ثُمَّ النَّاصِرِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، وَعُمُومَتِي، عَنْ جَدِّي مَالِكِ بْنِ عُمَيْرٍ أَنَّهُ شَهِدَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ، وَخَيْبَرَ وَالطَّائِفِ، وَكَانَ رَجُلًا شَاعِرًا، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَفْتِنِي فِي الشِّعْرِ، فَقَالَ: «لِأَنْ يَمْتَلِئَ مَا بَيْنَ لَبَّتِكَ إِلَى عَاتِقِكَ قَيْحًا خَيْرٌ مِنْ أَنْ يَمْتَلِئَ شِعَرًا» ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ امْسَحْ عَلَى رَأْسِي، فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى رَأْسِي، فَمَا قُلْتُ بَعْدَ ذَلِكَ بَيْتَ شِعَرٍ. وَلَقَدْ عُمِّرَ مَالِكٌ حَتَّى شَابَ رَأْسُهُ وَلِحْيَتُهُ وَمَا شَابَ مَوْضِعُ يَدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَسیدنا مالک بن عمیر رضی اللہ عنہ کے پوتے روایت کرتے ہیں کہ ان کے دادا مالک بن عمیر فتح مکہ، خیبر اور طائف کے موقع پر نبی کریم ﷺ کے ساتھ حاضر تھے، اور وہ ایک شاعر تھے، انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے شعر کے بارے میں فتویٰ دیجیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارے سینے اور کندھے کے درمیان کا حصہ پیپ سے بھر جانا اس سے بہتر ہے کہ وہ شعر سے بھر جائے۔“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے سر پر ہاتھ پھیر دیجیے۔ آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ میرے سر پر رکھا، تو اس کے بعد میں نے کبھی شعر کا کوئی مصرع نہیں کہا۔ اور مالک اتنی عمر پائی کہ ان کے سر اور داڑھی کے بال سفید ہو گئے، مگر رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ کی جگہ سفید نہ ہوئی۔