المعجم الكبير للطبراني
باب الميم— حرف میم سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
مالك بن التيهان أبو الهيثم الأنصاري " عقبي بدري لم يزل بالمدينة حتى توفي بها سنة عشرين، من أخباره " باب: سیدنا مالک بن تیہان، ابوالہیثم انصاری، رضی اللہ عنہ، عقبہ اور بدر میں شریک، مدینہ میں مقیم رہے یہاں تک کہ سن بیس ہجری میں وہیں وفات پائی؛ ان کے احوال میں سے
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْيَابِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْهَرَوِيُّ، ثنا خَلْفُ بْنُ خَلِيفَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا، فَإِذَا هُوَ بِأَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، فَقَالَ: «مَا أَخْرَجَكُمَا مِنْ بُيُوتِكُمَا؟» ، قَالَا: الْجُوعُ، قَالَ: «وَأَنَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا أَخْرَجَنِي إِلَّا الَّذِي أَخْرَجَكُمَا، قُومُوا» ، فَقَامُوا مَعَهُ وَأَتَى رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ، فَإِذَا الْأَنْصَارِيُّ لَيْسَ ثَمَّ، وَإِذَا هُوَ بِالْمَرْأَةِ فَقَالَ لَهَا: «أَيْنَ فُلَانٌ؟» ، قَالَتِ: انْطَلَقَ يَسْتَعْذِبُ لَنَا مِنَ الْمَاءِ، فَبَيْنَمَا هُوَ كَذَلِكَ إِذْ جَاءَ الْأَنْصَارِيُّ وَعَلَيْهِ قِرْبَةٌ مِنْ مَاءٍ، فَلَمَّا نَظَرَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَاحِبَيْهِ قَالَ: اللهُ أَكْبَرُ مَا أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ أَكْرَمُ مِنْ أَضْيَافِنَا، قَالَ: فَعَلَّقَ الْقِرْبَةَ وَقَطَعَ لَهُمْ عَذْقًا فِيهِ بُسْرٌ وَرُطَبٌ وَتَمْرٌ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوِ انْتَقَيْتَ؟» ، قَالَ: تَخَيَّرُوا يَا رَسُولَ اللهِ عَلَى أَعْيُنِكُمْ، قَالَ: وَأَخَذَ الْمُدْيَةَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِيَّاكَ وَالْحَلُوبَ» ، فَذَبَحَ لَهُمْ فَأَكَلُوا، فَلَمَّا فَرَغُوا قَالَ لَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَتُسْأَلُنَّ عَنْ هَذَا النَّعِيمِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، أَخْرَجَكُمْ مِنْ بُيُوتِكُمُ الْجُوعُ ثُمَّ لَمْ تَرْجِعُوا حَتَّى أَصَبْتُمْ مِنْ هَذَا النَّعِيمِ»…یزید بن کیسان، ابوحازم سے، وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: ایک دن رسول اللہ ﷺ نکلے تو ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما سے ملاقات ہوئی، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم دونوں کو اپنے گھروں سے کس چیز نے نکالا؟“ ان دونوں نے عرض کیا: بھوک نے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، مجھے بھی وہی چیز نکال لائی ہے جو تم دونوں کو نکال لائی، چلو۔“ چنانچہ وہ آپ ﷺ کے ساتھ چل پڑے اور ایک انصاری کے پاس آئے، انصاری وہاں موجود نہ تھے بلکہ ان کی بیوی تھی، آپ ﷺ نے اس سے فرمایا: ”فلاں کہاں ہے؟“ اس نے عرض کیا: وہ ہمارے لیے میٹھا پانی لینے گئے ہیں۔ ابھی وہ اسی حال میں تھے کہ انصاری آ گئے، ان پر پانی کا ایک مشکیزہ تھا، جب انہوں نے نبی کریم ﷺ اور آپ کے دونوں ساتھیوں کو دیکھا تو کہا: اللہ اکبر، کوئی شخص میرے مہمانوں سے بڑھ کر معزز مہمان نہیں رکھتا۔ پھر انہوں نے مشکیزہ لٹکا دیا اور ان کے لیے ایک خوشہ کاٹا جس میں کچی، پکی اور تازہ کھجوریں تھیں، تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”تم نے چن کر کیوں نہیں لائے؟“ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ خود اپنی آنکھوں سے پسند کر لیں۔ پھر انہوں نے چھری پکڑی تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”دودھ والی سے بچنا۔“ چنانچہ انہوں نے ان کے لیے (بکری) ذبح کی، انہوں نے کھایا، جب فارغ ہوئے تو نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا: ”تم سے اس نعمت کے بارے میں قیامت کے دن ضرور پوچھا جائے گا، بھوک نے تمہیں تمہارے گھروں سے نکالا، پھر تم اس وقت تک واپس نہیں گئے جب تک اس نعمت کو حاصل نہ کر لیا۔“