حدیث نمبر: 16617
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، وَجَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْيَابِيُّ، قَالَا: ثنا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى الرِّيَاشِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عِيسَى الْخَزَّازُ، ثنا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ سَمِعَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، يَقُولُ: خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ الظُّهْرِ فَوَجَدَ أَبَا بَكْرٍ فِي الْمَسْجِدِ فَقَالَ لَهُ: «مَا أَخْرَجَكَ هَذِهِ السَّاعَةَ؟» ، قَالَ: أَخْرَجَنِي الَّذِي أَخْرَجَكَ يَا رَسُولَ اللهِ وَجَاءَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، فَقَالَ: «يَا ابْنَ الْخَطَّابِ مَا أَخْرَجَكَ؟» ، قَالَ: أَخْرَجَنِي الَّذِي أَخْرَجَكُمَا، فَقَعَدَ عُمَرُ فَجَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَدِّثُهُمَا، ثُمَّ قَالَ: «فِيكُمَا مِنْ قُوَّةٍ تَنْطَلِقَانِ إِلَى هَذَا النَّخْلِ فَتُصِيبَانِ طَعَامًا وَشَرَابًا وَطِلَاءً» ، قُلْنَا: نَعَمْ، قَالَ: «مُرُّوا بِنَا إِلَى مَنْزِلِ أَبِي الْهَيْثَمِ بْنِ التَّيْهَانِ الْأَنْصَارِيِّ» ، فَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بَيْنَ أَيْدِينَا فَسَلَّمَ وَاسْتَأْذَنَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، وَأُمُّ الْهَيْثَمِ مِنْ وَرَاءِ الْبَابِ تَسْمَعُ سَلَامَهُ تُرِيدُ أَنْ يَزِيدَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِنَ السَّلَامِ، فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَنْصَرِفَ خَرَجَتْ أُمُّ الْهَيْثَمِ تَسْعَى خَلْفَهُمْ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ قَدْ وَاللهِ سَمِعْتُ تَسْلِيمَكَ، وَلَكِنِّي أَرَدْتُ أَنْ تَزِيدَنَا مِنْ سَلَامِكَ، قَالَ لَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْرًا، ثُمَّ قَالَ: «أَيْنَ أَبُو الْهَيْثَمِ؟» ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ هُوَ قَرِيبٌ، ذَهَبَ يَسْتَعْذِبُ لَنَا مِنَ الْمَاءِ، ادْخُلُوا، فَإِنَّهُ يَأْتِي السَّاعَةَ إِنْ شَاءَ اللهُ "، فَبَسَطَتْ لَهُمْ بِسَاطًا تَحْتَ الشَّجَرَةِ، وَجَاءَ أَبُو الْهَيْثَمِ فَفَرِحَ بِهِمْ وَقَرَّتْ عَيْنَاهُ بِهِمْ، وَصَعِدَ عَلَى نَخْلَةٍ فَصَرَمَ لَهُمْ أَعْذَاقًا، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «احْتَسِبْ يَا أَبَا الْهَيْثَمِ» ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ تَأْكُلُونَ مِنْ بُسْرِهِ وَمِنْ رُطَبِهِ وَمِنْ تَذْنُوبِهِ، ثُمَّ أَتَاهُمْ بِمَاءٍ فَشَرِبُوا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَذَا مِنَ النَّعِيمِ الَّذِي تُسْأَلُونَ عَنْهُ» ، فَقَامَ أَبُو الْهَيْثَمِ لَيَذْبَحَ لَهُمْ شَاةً، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِيَّاكَ وَاللَّبُونَ» ، وَقَامَتْ أُمُّ الْهَيْثَمِ تَعْجِنُ وَتَخْبِزُ لَهُمْ، وَوَضَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا رُءُوسَهُمْ لِلْقَائِلَةِ فَأُيْقُظُوا وَقَدْ أُدْرِكَ طَعَامُهُمْ، فَوُضِعَ الطَّعَامُ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ، فَأَكَلُوا وَشَبِعُوا وَرَدَّ عَلَيْهِمْ أَبُو الْهَيْثَمِ بَقِيَّةَ الْأَعْذَاقِ، فَأَكَلُوا مِنْ رُطَبِهِ وَتَذْنُوبِهِ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَدَعَا لَهُمْ بِخَيْرٍ
ترجمہ

…یونس بن عبید، عکرمہ سے، وہ ابن عباس سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے سنا: رسول اللہ ﷺ دوپہر کے وقت نکلے تو ابوبکر رضی اللہ عنہ کو مسجد میں پایا، آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”اس وقت تمہیں کس چیز نے نکالا؟“ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے بھی اسی چیز نے نکالا ہے جس نے آپ کو نکالا ہے۔ پھر عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ آ گئے، آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”اے ابن خطاب! تمہیں کیا نکالا؟“ انہوں نے عرض کیا: مجھے بھی اسی چیز نے نکالا ہے جس نے آپ دونوں کو نکالا ہے۔ چنانچہ عمر بیٹھ گئے اور رسول اللہ ﷺ ان دونوں سے باتیں کرنے لگے، پھر فرمایا: ”کیا تم دونوں میں اتنی سکت ہے کہ اس کھجور کے باغ تک چلے جاؤ اور وہاں سے کھانا، پینے کی کوئی چیز اور کوئی مشروب پا لو؟“ ہم نے عرض کیا: جی ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو ہمارے ساتھ ابوالہیثم بن التیہان انصاری کے گھر چلو۔“ رسول اللہ ﷺ ہم سے آگے بڑھے، سلام کیا اور تین بار اجازت مانگی، اور ام الہیثم دروازے کے پیچھے سے آپ ﷺ کا سلام سن رہی تھیں، چاہتی تھیں کہ رسول اللہ ﷺ اور زیادہ سلام فرمائیں، پھر جب آپ ﷺ واپس ہونے لگے تو ام الہیثم دوڑتی ہوئی ان کے پیچھے نکلیں اور عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ کی قسم! میں نے آپ کا سلام سن لیا تھا، لیکن میں چاہتی تھی کہ آپ اپنے سلام میں مزید اضافہ فرمائیں۔ رسول اللہ ﷺ نے انہیں بھلائی کی دعا دی، پھر فرمایا: ”ابوالہیثم کہاں ہیں؟“ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! وہ قریب ہی ہیں، ہمارے لیے میٹھا پانی لینے گئے ہیں، اندر تشریف لائیں، وہ ان شاء اللہ ابھی آ جائیں گے۔ چنانچہ انہوں نے درخت کے نیچے ایک چٹائی بچھا دی، اور ابوالہیثم آ گئے، وہ ان (مہمانوں) کو دیکھ کر بہت خوش ہوئے اور ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہو گئیں، وہ ایک کھجور کے درخت پر چڑھے اور ان کے لیے خوشے کاٹے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے ابوالہیثم! (اس کا) ثواب کی نیت رکھو۔“ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ اس کی کچی، پکی اور نیم پکی سب اقسام میں سے تناول فرمائیں۔ پھر ان کے پاس پانی لائے تو انہوں نے پیا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یہ اسی نعمت میں سے ہے جس کے بارے میں تم سے پوچھا جائے گا۔“ پھر ابوالہیثم ان کے لیے بکری ذبح کرنے کے لیے کھڑے ہوئے تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”دودھ والی بکری سے بچنا۔“ اور ام الہیثم ان کے لیے آٹا گوندھ کر روٹی پکانے لگیں، اور رسول اللہ ﷺ، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما نے قیلولے کے لیے اپنے سر رکھے، پھر جب انہیں جگایا گیا تو ان کا کھانا تیار ہو چکا تھا، کھانا ان کے سامنے رکھا گیا، انہوں نے کھایا اور سیر ہو گئے، اور ابوالہیثم نے ان کے سامنے باقی ماندہ خوشے بھی پیش کیے، انہوں نے اس کی تازہ اور نیم پکی کھجوریں بھی کھائیں، پھر رسول اللہ ﷺ نے انہیں سلام کیا اور ان کے لیے بھلائی کی دعا فرمائی۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الميم / حدیث: 16617
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 253، حدیث 568