حدیث نمبر: 16566
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَأَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ قَالَا: ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، قَالَ: مَرَرْنَا بِالرَّبَذَةِ وَإِذَا فُسْطَاطٌ، قُلْتُ: لِمَنْ هَذَا؟، قِيلَ: لِمُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ، فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يَا مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ، إِنَّهَا سَتَكُونُ فِتْنَةٌ، وَفُرْقَةٌ، وَاخْتِلَافٌ، فَإِذَا كَانَ ذَلِكَ فَاكْسِرْ سَيْفَكَ وَاكْسِرْ نَبْلَكَ وَاقْطَعْ وَاتْرُكْ وَاجْلِسْ فِي بَيْتِكَ» ، فَقَدْ وَقَعَتِ الْفِتْنَةُ وَفَعَلْتُ الَّذِي أَمَرَنِي بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَالْتَفَتُّ فَإِذَا السَّيْفُ مُعَلَّقٌ بِعَمُودِ الْفُسْطَاطِ فَانْتَصَلْتُهُ فَإِذَا سَيْفًا مِنْ خَشَبٍ، قَالَ: قَدْ فَعَلْتُ مَا أَمَرَنِي بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاتَّخَذْتُ هَذَا أَهِيبُ بِهِ النَّاسَ
ترجمہ

ابو بردہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم ربذہ سے گزرے تو وہاں ایک خیمہ تھا، میں نے پوچھا: یہ کس کا ہے؟ کہا گیا: محمد بن مسلمہ کا۔ تو میں ان کے پاس گیا، انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے محمد بن مسلمہ! عنقریب فتنہ، تفرقہ اور اختلاف ہو گا، جب ایسا ہو تو اپنی تلوار توڑ دینا اور اپنے تیر توڑ دینا، اور تعلق قطع کر دینا اور چھوڑ دینا اور اپنے گھر میں بیٹھ جانا۔“ چنانچہ فتنہ برپا ہو گیا تو میں نے وہی کیا جس کا رسول اللہ ﷺ نے مجھے حکم دیا تھا۔ میں نے دیکھا تو تلوار خیمے کے ستون سے لٹکی ہوئی تھی، تو میں نے اسے میان سے نکالا تو وہ لکڑی کی تلوار نکلی۔ انہوں نے کہا: میں نے وہی کیا جس کا نبی کریم ﷺ نے مجھے حکم دیا تھا، اور میں نے یہ لکڑی کی تلوار بنا رکھی ہے تاکہ اس سے لوگوں کو ڈرا سکوں۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الميم / حدیث: 16566
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 232، حدیث 517