المعجم الكبير للطبراني
باب الميم— حرف میم سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عبد الرحمن الأعرج، عن محمد بن مسلمة باب: عبدالرحمن اعرج کی سیدنا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ النَّضْرِ الْعَسْكَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُصَفًّى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حِمْيَرٍ، حَدَّثَنِي شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزٍ الْأَعْرَجِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا قَامَ يُصَلِّي قَالَ: «اللهُ أَكْبَرُ، وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا مُسْلِمًا، وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ، إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي، وَمَحْيَايَ، وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ، اللهُمَّ أَنْتَ الْمَلِكُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ» ، ثُمَّ يَقْرَأُ، فَيَقُولُ إِذَا رَكَعَ: «اللهُمَّ لَكَ رَكَعْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَلَكَ أَسْلَمْتُ وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ، أَنْتَ رَبِّي رَكَعَ لَكَ جَمِيعُ سَمْعِي وَبَصَرِي وَلَحْمِي وَدَمِي وَمُخِّي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» ، ثُمَّ يَرْفَعُ رَأْسَهُ فَيَقُولُ: «سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَاوَاتِ وَمِلْءَ الْأَرْضِ وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ» ، وَإِذَا سَجَدَ قَالَ: «اللهُمَّ لَكَ سَجَدْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَلَكَ أَسْلَمْتُ، أَنْتَ رَبِّي سَجَدَ وَجْهِي لِلَّذِي خَلَقَهُ وَصَوَّرَهُ وَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ، تَبَارَكَ اللهُ أَحْسَنَ الْخَالِقِينَ»سیدنا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو فرماتے: ”اللہ اکبر، میں نے اپنا رخ اس ذات کی طرف کر لیا جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، یکسوئی کے ساتھ، مسلمان ہو کر، اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں۔ بے شک میری نماز، میری قربانی، میرا جینا اور میرا مرنا سب اللہ رب العالمین کے لیے ہے جس کا کوئی شریک نہیں، اور مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے اور میں سب سے پہلے فرمانبردار ہونے والوں میں سے ہوں۔ اے اللہ! تو ہی بادشاہ ہے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو پاک ہے اور تیری ہی تعریف ہے۔“ پھر قرأت فرماتے، اور جب رکوع کرتے تو فرماتے: ”اے اللہ! میں نے تیرے لیے رکوع کیا، تجھ پر ایمان لایا، تیرے لیے فرمانبردار ہوا، اور تجھ پر بھروسا کیا، تو میرا رب ہے، میرے کان، میری آنکھ، میرا گوشت، میرا خون اور میرا دماغ سب اللہ رب العالمین کے لیے جھک گئے ہیں۔“ پھر اپنا سر اٹھاتے اور فرماتے: ”سمع اللہ لمن حمدہ، اے ہمارے رب! تیری ہی تعریف ہے، آسمانوں اور زمین کو بھرنے والی، اور اس کے بعد جو کچھ تو چاہے اسے بھرنے والی۔“ اور جب سجدہ کرتے تو فرماتے: ”اے اللہ! میں نے تیرے لیے سجدہ کیا، تجھ پر ایمان لایا اور تیرے لیے فرمانبردار ہوا، تو میرا رب ہے، میرا چہرہ اس ذات کے لیے سجدہ ریز ہوا جس نے اسے پیدا کیا، اسے شکل دی، اور اس کے کان اور آنکھ کھولے، بہت بابرکت ہے اللہ، سب سے بہتر پیدا کرنے والا۔“