المعجم الكبير للطبراني
باب الميم— حرف میم سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
قبيصة بن ذؤيب الخزاعي، عن محمد بن مسلمة باب: قبیصہ بن ذؤیب خزاعی کی سیدنا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، أَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ الْخُزَاعِيِّ، قَالَ: جَاءَتِ الْجَدَّةُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ تَطْلُبُ مِيرَاثَهَا مِنِ ابْنِهَا أَوِ ابْنَتِهَا، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: مَا أَجِدُ لَكِ فِي كِتَابِ اللهِ شَيْئًا، وَمَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقْضِي لَكِ بِشَيْءٍ، وَسَأَسْأَلُ النَّاسَ الْعَشِيَّةَ، فَلَمَّا صَلَّى الظُّهْرَ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ، فَقَالَ: إِنَّ الْجَدَّةَ أَتَتْنِي تَسْأَلُ مِيرَاثَهَا مِنِ ابْنِهَا أَوِ ابْنَتِهَا، وَإِنِّي لَمْ أَجِدْ لَهَا فِي الْكِتَابِ شَيْئًا، وَمَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْضِي لَهَا بِشَيْءٍ، فَهَلْ سَمِعَ أَحَدٌ مِنْكُمْ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِيهَا شَيْئًا؟، فَقَامَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ فَقَالَ: «شَهِدْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْضِي لَهَا بِالسُّدُسِ» ، فَأَعْطَاهَا أَبُو بَكْرٍ السُّدُسَ، فَقَالَ: هَلْ سَمِعَ ذَلِكَ مَعَكَ أَحَدٌ، فَقَامَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ، فَقَالَ: شَهِدْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقْضِي لَهَا بِالسُّدُسِ "، فَأَعْطَاهَا أَبُو بَكْرٍ السُّدُسَ، فَلَمَّا كَانَتْ خِلَافَةُ عُمَرَ جَاءَتْهُ الْجَدَّةُ الَّتِي تُخَالِفُهَا، فَقَالَ عُمَرُ: إِنَّمَا كَانَ الْقَضَاءُ فِي غَيْرِكِ، وَلَكِنْ إِذَا اجْتَمَعْتُمَا فَالسُّدُسُ بَيْنَكُمَا، وَأَيَّتُكُمَا خَلَتْ فَهُوَ لَهَا(راوی کہتے ہیں:) اور میں نے رسول اللہ ﷺ کو اس کے لیے کوئی فیصلہ فرماتے نہیں سنا، تو کیا تم میں سے کسی نے رسول اللہ ﷺ سے اس بارے میں کچھ سنا ہے؟ تو مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہا: ”میں نے رسول اللہ ﷺ کو اسے چھٹا حصہ دیتے دیکھا ہے۔“ تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اسے چھٹا حصہ دے دیا، پھر پوچھا: کیا یہ بات تمہارے ساتھ کسی اور نے بھی سنی تھی؟ تو سیدنا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہا: میں نے بھی رسول اللہ ﷺ کو اسے چھٹا حصہ دیتے دیکھا ہے۔ تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اسے چھٹا حصہ دے دیا۔ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا دورِ خلافت آیا تو دوسری دادی، جو اس پہلی کے ساتھ حصہ دار تھی، ان کے پاس آئی، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ فیصلہ تو تمہارے سوا کسی اور کے لیے تھا، لیکن اگر تم دونوں اکٹھی ہو جاؤ تو چھٹا حصہ تمہارے درمیان تقسیم ہو گا، اور جو تم میں سے اکیلی ہو گی اسے پورا مل جائے گا۔